اوقافی جائیدادیں اللہ کی امانت ، بحیثیت اسپیشل آفیسر جائیدادوں کا امین : شیخ محمد اقبال

متولی درگاہ حضرت شاہ خاموشؒ کی معطلی میں توسیع ، انصاف کے تقاضوں کی عدم تکمیل کا الزام بے بنیاد ، اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کا بیان
حیدرآباد۔ /8مئی، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ نے درگاہ حضرت شاہ خاموش ؒ نامپلی کے متولی کی حیثیت سے مولانا سید اکبر نظام الدین صابری کی معطلی میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ اور سی سی ایس کی جانب سے درگاہ کے تحت موجود اوقافی اراضیات کی فروخت اور آمدنی کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال ( آئی پی ایس ) نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وقف بورڈ نے 865ایکر 37گنٹے وقف اراضی اور آمدنی کے بارے میں مولانا اکبر نظام الدین سے جو وضاحت طلب کی تھی اس کا جواب 6مئی کو وصول ہوا، جس میں انہوں نے اوقافی جائیدادوں کے بارے میں مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ متولی درگاہ حضرت شاہ خاموشؒ کا جواب غیر اطمینان بخش ہے لہذا ان کی معطلی میں توسیع اور باقاعدہ تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسپیشل آفیسر نے انجمن سجادگان و متولیان کی جانب سے ان پر عائد کردہ الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مولانا اکبر نظام الدین اور دوسروں کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہتک عزت کے تحت سیول اور کریمنل کارروائی کی جائے گی۔ شیخ محمد اقبال نے آج مختلف دستاویزات میڈیا کے حوالے کئے جس میں خانہ جی گوڑہ کی 84ایکر اراضی کی فروخت سے متعلق تمام دستاویزات شامل ہیں جو رجسٹرار آفس سے حاصل کئے گئے۔ اس کے علاوہ مولانا اکبر نظام الدین کی جانب سے جی پی اے مقرر کرنے کی کارروائی کی نقل بھی میڈیا کے حوالے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ نے اپنی نوٹس میں جو نکات اٹھائے تھے ان میں سے ایک کا بھی اطمینان بخش جواب نہیں دیا گیا اور ہر معاملہ میں صرف لاعلمی اور عدم واقفیت کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 1987 تا1990کے درمیان خانہ جی گوڑہ کی 121ایکر 17گنٹے اراضی میں سے 84ایکر اراضی فروخت کردی گئی جس میں جی پی اے نے فروخت کی معاملتیں مکمل کیں۔ انہوں نے کہاکہ مولانا اکبر نظام الدین دو مرتبہ وقف بورڈ اور ایک مرتبہ سنٹرل وقف کونسل کے رکن رہ چکے ہیں لیکن درگاہ کے تحت اوقافی جائیدادوں کے بارے میں لاعلمی کا اظہار باعث حیرت ہے۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ جان بوجھ کر حقائق کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے والد کے انتقال کے بعد متولی مقرر ہونے والے مولانا اکبر نظام الدین کو چاہیئے تھا کہ وہ وقف گزٹ میں موجود اوقافی اراضیات کا تحفظ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ خانہ جی گوڑہ کی اراضی فروخت کے معاملات میں متولی کی منظوری شامل ہے اور اگر یہ جعلی ہے تو پھر اس معاملہ کی سی سی ایس تحقیقات کرے گا اور فارنسک ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اسپیشل آفیسر نے بتایا کہ اس معاملہ میں مولانا اکبر نظام الدین انعامدار کی حیثیت سے پیش ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اراضیات کے تحفظ کیلئے متولی کو پولیس اور ضلع کلکٹر کے پاس شکایت کرنی چاہیئے تھی بجائے اس کے وہ لاعلمی کا اظہار کررہے ہیں۔ اس طرح وہ اعتماد شکنی کے مرتکب قرار پاتے ہیں۔ اسپیشل آفیسر نے وضاحت کی کہ 24اپریل اور 26اپریل کو دو علحدہ مکتوب روانہ کرتے ہوئے اوقافی اراضی اور آمدنی کے بارے میں تفصیلات طلب کی گئیں۔ اس کے جواب میں متولی نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے معطلی سے قبل نوٹس دیئے جانے سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وقف ایکٹ 1995ء کے تحت متولی کے خلاف درکار ثبوت موجود ہونے کی صورت میں نوٹس کے بغیر معطل کیا جاسکتا ہے، لہذا انصاف کے تقاضوں کی عدم تکمیل کا الزام بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ صابر گلشن کا منشائے وقف غریبوں کو کھانا کھلانا ہے جبکہ وہاں عالیشان مکان تعمیر کرتے ہوئے اسے خانگی فارم ہاوز میں تبدیل کردیا گیا اور وہاں وقف بورڈ کی اجازت کے بغیر ملگیات اور عمارت تعمیر کی گئی۔ متولی چاہتے تو اس اراضی کو فنکشن ہال میں تبدیل کرتے ہوئے زائد آمدنی کا ذریعہ بناسکتے تھے اور یہ رقم منشائے وقف پر خرچ کی جاسکتی تھی۔ شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ 2012ء میں جب ضلع کلکٹر نے اسے سرکاری اراضی قرار دینے کی کوشش کی تو مولانا اکبر نظام الدین نے رِٹ پٹیشن 8189/2012 میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے اسے وقف قراردیا تھا۔ اسپیشل آفیسر نے سجادگان اور متولیوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ صرف ان افراد کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے جنہوں نے وقف قواعد اور منشائے وقف کی خلاف ورزی کی، کسی کو شخصی عناد کی بنیاد پر نشانہ بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے بتایا کہ خانہ جی گوڑہ کی اراضی کو حاصل کرنے کیلئے وقف بورڈ کلکٹر اور محکمہ مال سے رجوع ہوگا۔ اس اراضی کے بارے میں اگر مولانا اکبر نظام الدین انعامدار کے بجائے متولی کی حیثیت سے رجوع ہوتے تو سپریم کورٹ اسے سرکاری زمین قرار نہ دیتا۔ اسپیشل آفیسر نے صرف تلنگانہ کے اداروں پر کارروائی سے متعلق الزام کی وضاحت کرتے ہوئے ان 14اداروں کی تفصیلات جاری کی جن کے خلاف ڈسمبر سے اب تک کارروائیاں کی گئیں۔ ان میں 8اداروں کا تعلق سیما آندھرا سے ہے جبکہ 6ادارے حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاحال وقف بورڈ نے جن اداروں کے خلاف جو بھی کارروائی کی ہائی کورٹ نے کارروائی کو برقرار رکھا ہے۔ کسی معطلی کے خلاف ہائی کورٹ نے احکامات جاری نہیں کئے۔ شیخ محمد اقبال نے مخصوص مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے متولیوں کو نشانہ بنانے کے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مکتب فکر کیا ہے متولیان اچھی طرح جانتے ہیں پھر بھی ان پر الزام تراشی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مکتب فکر بھلے کچھ ہو لیکن فی الوقت اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ان کا مکتب فکر ہے۔انہوں نے کہا کہ بے بنیاد الزامات کے ذریعہ سجادگان و متولیان انہیں اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کو دھمکانے اور ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ ان کوششوں سے خوف زدہ نہیں ہوں گے۔ بحیثیت مسلمان میرا ایمان ہے کہ اوقافی جائیدادیں اللہ کی امانت ہیں اور میں بحیثیت اسپیشل آفیسر ان کا امین ہوں۔ ٹی وی پر مباحثہ کے چیلنج کا حوالہ دیتے ہوئے شیخ محمد اقبال نے کہا کہ وہ کوئی سیاسی قائد نہیں کہ ٹی وی مباحثہ کو تیار ہوں، وہ بحیثیت آفیسر تمام دستاویزات عوام کے روبرو پیش کررہے ہیں تاکہ حقیقت آشکار ہوجائے۔