مختلف گوشوں سے اظہار تشویش ، عہدیداروں کی کارکردگی پر شکایتیں
حیدرآباد۔/27نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات اور قابضین کے خلاف وقف ایکٹ کے مطابق فوجداری کارروائی کیلئے وقف بورڈ نے بعض سابق عہدیداروں کی خدمات حاصل کی ہیں۔ اگرچہ وقف بورڈ سے وظیفہ پر سبکدوش ہونے والے عہدیداروں کی خدمات دوبارہ حاصل کرنے پر تنازعہ پیدا ہوگیا تاہم وقف بورڈ حکام کو یقین ہے کہ ان سابق عہدیداروں کی بورڈ کے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں رہے گی اور ان کے بارے میں کسی بھی شکایت کی صورت میں خدمات فوری ختم کردی جائیں گی۔ سابق میں جن عہدیداروں کی کارکردگی کے سلسلہ میں مختلف شکایات تھیں ان کی خدمات حاصل کرنے پر مختلف گوشوں میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ اگرچہ حکومت کی منظوری سے لیا گیا تاہم حکومت کو ان عہدیداروں کی سابقہ سرگرمیوں کا علم نہیں۔ دو ریٹائرڈ ڈپٹی سکریٹریز کو چھ ماہ کیلئے ماہانہ 25ہزار روپئے مشاہیرہ پر کنٹراکٹ پر رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور محکمہ کے ریٹائرڈ عہدیدار کو کنٹراکٹ بنیاد پر ایکزیکیٹو آفیسر کی حیثیت سے مامور کیا گیا ہے۔ ان تینوں ریٹائرڈ عہدیداروں کو اوقافی جائیدادوں کے معائنہ اور ناجائز قبضوں کی برخواستگی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ایک ریٹائرڈ عہدیدار کو وقف بورڈ کی جانب سے حالیہ عرصہ میں راست نگرانی میں لئے گئے اوقافی اداروں کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی۔ یہ عہدیدار وقف بورڈ میں موجود ٹاسک فورس ٹیم کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور وقتاً فوقتاً اعلیٰ عہدیداروں کی ہدایت پر اہم جائیدادوں کا معائنہ کریں گے۔ اس ٹیم کی اعانت کیلئے دو ریٹائرڈ پولیس عہدیداروں کو مامور کیا گیا ہے جن کی خدمات حال ہی میں کنٹراکٹ کی بنیاد پر وقف بورڈ نے حاصل کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی برخواستگی اور اوقافی اداروں کے کرایوں میں اضافہ کے ذریعہ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ حالیہ عرصہ میں اسپیشل آفیسر کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔کئی اضلاع اور شہر میں اوقافی اداروں سے منسلک ملگیات کے سلسلہ میں بورڈ کو شکایات موصول ہوئیں کہ کرایہ داروں نے دیگر افراد کو ملگیات کرایہ پر حوالہ کردیں اور ان سے بھاری رقم بطور کرایہ حاصل کررہے ہیں اور وقف بورڈ کو معمولی رقم ادا کی جارہی ہے۔ حالیہ عرصہ میں حیدرآباد، کریم نگر اور محبوب نگر میں اس طرح کی شکایات ملنے پر وقف بورڈ نے کرایہ داروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔