اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے حکومت کے اعلانات پر سوالیہ نشان لگ جانے کا امکان

وقف ٹریبونل میں مستقل جج کا عدم تقرر ، اہم جائیدادوں کے مقدمات التواء کا شکار
حیدرآباد۔/16اپریل، ( سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے بارے میں حکومت کی جانب سے اسمبلی اور اس کے باہر بارہا اعلانات کئے گئے لیکن عملی طور پر اعلانات کو جانچا جائے تو حکومت کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف ٹریبونل کلیدی رول کا حامل ادارہ ہے لیکن دیڑھ سال سے زائد عرصہ سے ٹریبونل پر مستقل جج کا تقرر نہیں کیا گیا اور صرف عارضی انتظامات کے ذریعہ ٹریبونل پر دیگر اُمور سے تعلق رکھنے والے پریسائیڈنگ آفیسرس سے کام چلایا جارہا ہے۔ حکومت نے مستقل پریسائیڈنگ آفیسر کے تقرر کیلئے کئی بار تیقنات دیئے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ابھی بھی کسی موزوں پریسائیڈنگ آفیسر کی تلاش میں ہے۔ وقف ٹریبونل کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اوقافی جائیدادوں اور اراضیات سے متعلق مقدمات جب ہائی کورٹ سے رجوع کئے جاتے ہیں تو بیشتر مقدمات میں ہائی کورٹ درخواست گذاروں کو ٹریبونل سے رجوع ہونے کا مشورہ دیتا ہے۔ ٹریبونل کے فیصلہ کے بعد اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں وقف ٹریبونل کا اہم رول ہے۔ درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کے تحت منی کونڈہ میں موجود وقف اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف ٹریبونل نے اہم فیصلہ سنایا تھا۔ بعد میں یہ مقدمہ ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ سے رجوع ہوگیا۔ ٹریبونل میں مستقل پریسائیڈنگ آفیسر کی عدم موجودگی کے سبب کئی اہم اوقافی جائیدادوں سے متعلق مقدمات دیڑھ سال سے سماعت کے بغیر زیر التواء ہیں۔ کسی بھی ادارہ کے تحفظ اور غیر مجاز قابضین کے خلاف کارروائی کے سلسلہ میں وقف بورڈ کو ٹریبونل سے احکامات کے حصول میں دشواری ہورہی ہے۔ ابتداء میں حکومت نے لیبر کورٹ کے جج کو وقف ٹریبونل کی زائد ذمہ داری دی تھی لیکن اب ایک ایڈیشنل جج سٹی سیول کورٹ کو انچارج پریسائیڈنگ آفیسر مقرر کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹریبونل میں ہزاروں مقدمات زیر التواء ہیں جن میں کئی اہم جائیدادوں سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ وشاکھاپٹنم کی درگاہ حضرت اسحق مدنی ؒ کے علاوہ اننت پور، کدری اور تلنگانہ کے کئی اہم جائیدادوں سے متعلق مقدمات ٹریبونل میں زیر التواء ہیں۔ وقف ٹریبونل میں تقرر کے سلسلہ میں حکومت کو اس بات کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ پریسائیڈنگ آفیسر نہ صرف اردو داں ہو بلکہ وقف کے اُمور پر اسے عبور حاصل ہو کیونکہ زیادہ تر اوقافی دستاویزات اردو میں ہوتے ہیں اور ان کی اصطلاحات بھی فارسی اور اردو میں ہوتی ہیں۔ اس اعتبار سے کسی مسلم پریسائیڈنگ آفیسر کو مقرر کیا جائے تو انہیں مقدمات کو سمجھنے اور یکسوئی میں مدد ملے گی۔ وقف ٹریبونل کے قیام کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب دیڑھ سال سے زائد عرصہ سے پریسائیڈنگ آفیسر کا عہدہ خالی ہے۔ وقف ٹریبونل میں وقف بورڈ کے وکلاء کو مستقل آفیسر کی عدم موجودگی کے سبب مقدمات کی پیروی میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ حکومت کو جلد از جلد ٹریبونل میں مستقل پریسائیڈنگ آفیسر کے تقرر کے ذریعہ اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔