اوقافی جائیدادوں کی تباہی کی تحقیقات کا اعلان : چیف منسٹر

حیدرآباد۔ 27 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وقف جائیدادوں کی بربادی پر تشویش کا اظہار کرکے وقف جائیدادوں اور جوبلی ہلز و فلم نگر کے علاوہ دیگر سوسائٹیز کی بے قاعدگیوں کی تحقیقات کرانے دونوں ایوانوں پر مشتمل ارکان کی دو کمیٹیاں تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ آج اسمبلی میں رول 74 کے مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ کروڑہا روپئے کی وقف جائیدادیں تباہ و برباد ہوئیں جس پر تلنگانہ حکومت زیادہ فکرمند ہے۔ وقف جائیدادوں کا تحفظ کرنے کا ٹی آر ایس نے اپنے منشور میں وعدہ کیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ تلنگانہ میں وقف جائیدادوں کے معاملے میں بڑی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ حکومت نہ صرف وقف جائیدادوں کا تحفظ کریگی بلکہ منشائے وقف کا مکمل احترام کریگی۔ ماضی کی حکومتوں نے وقف جائیدادوں کے معاملے میں غفلت برتی اور حکومت سے کئی غلطیاں ہوئی ہیں۔ عدلیہ کے احکامات بھی ہیں۔ حکومت وقف بورڈ کو عدالتی اختیارات دینے کی حامی ہے تاہم وقف کا مرکز سے تعلق ہے لہٰذا حکومت نے مرکز کو چند تجاویز روانہ کی ہیں۔ مرکزی وزیر اقلیتی اُمور مسز نجمہ ہبت اللہ نے ان تجاویز پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وقف جائیدادوں کا تحفظ کریگی، نگرانی کریگی جو وقف جائیدادیں مختلف کمپنیوں و اداروں کے حوالے کی گئی ہیں، ان سے معاوضہ وصول کرنے پر حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ مرکزی حکومت کے جواب کا بڑی بے چینی سے انتظار کررہی ہے۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ وقف ٹریبیونل کا جج نہ ہونے کی وجہ سے کئی مقدمات زیرالتواء ہونے کی انہیں شکایتیں وصول ہورہی ہیں۔ وہ بہت جلد وقف ٹریبیونل جج کا تقرر کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ وقف جائیدادوں کی تباہی اور سوسائٹیز کی بے قاعدگیوں پر دو علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور دونوں کمیٹیوں میں اسمبلی اور کونسل کے ارکان کو شامل کرکے انہیں مقررہ وقت پر رپورٹ دینے کی ہدایت دی جائے گی۔ رپورٹ ملنے کے بعد حکومت سخت اور ضروری اقدامات کرے گی۔ کانگریس رکن مسٹر ملوبٹی وکرامارکا نے وقف جائیدادوں کی تباہی ناجائز قبضوں اور بے قاعدگیوں پر ایوان کی کمیٹی تشکیل دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اس فیصلے کی تائید کرتی ہے۔ جو وقف جائیدادیں دوسرے اداروں کو الاٹ کئے گئے ہیں، ان سے معاوضہ وصول کرنے کی تجویز کی تائید کرتی ہے ۔ وزیر زراعت پی سرینواس ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر کھلی کتاب ہیں، وقف جائیدادیں ہو یا سوسائٹی کی بے قاعدگیاں کسی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی غلطیاں کرنے والوں کو بخشا جائے گا۔ حکومت ایسی پالیسی تیار کرے گی کہ آئندہ کوئی غلطی نہ کرے۔ جہاں تک جوبلی ہلز فلم نگر اور دوسری سوسائٹی کا معاملہ ہے۔ اس میں کئی بے قاعدگیاں ہوئی ہیں تاہم ماضی کے حکومتوں نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ جو سوسائٹی کے علم نہیں ہے۔ انہیں بھی پلاٹس الاٹ کئے گئے ہیں۔ اس کی ویجیلینس، سی آئی ڈی کے علاوہ دوسری انکوائری ہوئی ہیں تاہم پچھلی حکومت نے سی آئی ڈی کو آزادی نہیں دی تھی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جوبلی ہلز، فلم نگر کے علاوہ دوسرے سوسائٹی کی ماضی میں تحقیقات ہوئی ہیں۔ 80 بنڈلس پر مشتمل ہیں اور اس کے 15 ہزار پیپرس ہیں۔ حکومت غلطیوں پر پردہ نہیں ڈالیگی اور نہ کسی کو بچانے کی کوشش کریگی بلکہ غلطی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ مکانات اور اراضیات کی تقسیم میں ٹی آر ایس حکومت ایس سی، ایس ٹی طبقات کو خصوصی کوٹہ مختص کرے گی۔ این جی اوز سوسائٹی میں بھی بے قاعدگیوں کی شکایتیں ہیں۔ اگر تحقیقات میں غلطیوں کا انکشاف ہوتا ہے تو ان کیخلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔