اقلیتوں کی بھلائی کے اسکیمات ترجیحات میں شامل ، اسپیشل آفیسر وقف بورڈ محمد جلال الدین اکبر
حیدرآباد ۔ 11 ۔ اگست (سیاست نیوز) اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب محمد جلال الدین اکبر آئی ایف ایس نے واضح کیا کہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ اور ان کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔ اوقافی جائیدادوں کی آمدنی منشائے وقف کے مطابق خرچ کرنا اور جائیدادوں کی ترقی کے ذریعہ اقلیتوں کی بھلائی کی اسکیمات روبہ عمل لانا ان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ جناب جلال الدین اکبر نے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے عہدہ کا جائزہ حاصل کرنے کے ساتھ ہی مختلف اقلیتی اداروں کی کارکردگی کے جائزہ کا آغاز کیا ہے ۔ انہوں نے مختلف اداروں کے عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے کارکردگی اور اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ مالیاتی سال 2014-15 ء کے بجٹ برائے اقلیتی بہبود کی تیاری پر بھی انہوں نے خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جناب جلال الدین اکبر نے کہا کہ وہ وقف بورڈ کی کارکردگی اور اس سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف ایک وسیع تر ادارہ ہے اور اس کی تمام سرگرمیوں کا جائزہ لینے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نہ صرف ناجائز قبضوں کی برخواستگی کی طرف توجہ دی جائے بلکہ موجودہ اراضیات کا تحفظ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی اراضیات جو خالی پڑی ہیں، انہیں ترقی دیتے ہوئے اس کی آمدنی اقلیتوں کی بھلائی پر خرچ کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سابق میں اسپیشل آفیسر نے اوقافی اداروں کے خلاف قواعد کی خلاف ورزی کے سلسلہ میں جو کارروائیاں کی ہیں وہ برقرار رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جو مقدمات درج کئے گئے ہیں وہ جاری رہیں گے اور میرٹ کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں وہ ہر ضلع میں محکمہ مال کے عہدیداروں سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ضلع کلکٹرس اور ڈپٹی کلکٹرس کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں کی موجودہ صورتحال پر رپورٹ طلب کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کی تیاری کے سلسلہ میں انہوں نے مختلف اداروں سے تجاویز طلب کی ہیں ۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے ایک ہزار کروڑ روپئے کا اعلان کیا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ایک ہزار کروڑ روپئے کے مکمل خرچ کو یقینی بنانے کیلئے بہتر سے بہتر اسکیمات تیار کی جائیں۔ جناب جلال الدین اکبر نے کہا کہ بجٹ کے مکمل خرچ کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہوگی اور اس سلسلہ میں اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے بہتر تال میل کے ساتھ خدمات انجام دیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ جنگلات میں ابھی بھی بعض ذمہ داریاں ان کے سپرد ہیں لہذا وہ ان ذمہ داریوں کی تکمیل کے بعد شام کے اوقات میں وقف بورڈ اور اقلیتی بہبود کے امور پر توجہ دے پائیں گے ۔ انہوں نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدیداروں کے ساتھ آج غیر رسمی طور پر اجلاس منعقد کیا۔ تاہم بجٹ کی تیاری کے سلسلہ میں وہ منگل کو دیگر اداروں کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔