اوقافی اراضیات کے سروے کی عاجلانہ تکمیل پر توجہ دہانی

ائمہ اور موذنین کی تنخواہوں میں اضافہ زیر غور ، جائزہ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی کا بیان
حیدرآباد۔/5جولائی، ( سیاست نیوز) ریاست میں اوقافی اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں حکومت تلنگانہ نے وقف ریکارڈ کو ریونیو ریکارڈ سے مربوط کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ وقف ریکارڈ کو ریونیو ریکارڈ سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اوقافی اراضیات کا پتہ چلایا جاسکتا ہے، جس کے بعد ان کے تحفظ اور ترقی میں حکومت کو مدد ملے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر مال محمد محمود علی نے آج سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ اس مسئلہ پر جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اوقافی اراضیات کے سروے کی تکمیل پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو اور وقف ریکارڈ کو بہتر بناتے ہوئے کئی اہم اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کیا جاسکتا ہے جن پر حکومت اور وقف بورڈ دونوں اپنی اپنی دعویداری پیش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقف سروے کی تکمیل کے ذریعہ ہی تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کی تکمیل کیلئے حکومت تمام ضروری فنڈز اور اسٹاف فراہم کرنے تیار ہے۔ انہوں نے وقف بورڈ کی تقسیم کے سلسلہ میں شروع کئے گئے اقدامات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے بتایاکہ چیف منسٹر جن کے پاس محکمہ اقلیتی بہبود کا قلمدان ہے وہ چاہتے ہیں کہ محکمہ مال کے تال میل کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کے سروے کا کام مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں ضلع کلکٹرس کو بھی ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اقلیتی اداروں کی تقسیم کا عمل جلد مکمل کرلیں تاکہ تلنگانہ کے اداروں کی بہتر کارکردگی کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تمام جاریہ اسکیمات پر بہتر عمل آوری عہدیداروں کی ذمہ داری ہے اور بہت جلد وہ اسکیمات کے سلسلہ میں جائزہ اجلاس طلب کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ رمضان المبارک کے دوران تلنگانہ کے اضلاع میں مساجد اور عیدگاہوں کی آہک پاشی اور ضروری مرمتی کاموں کے سلسلہ میں جو رقم مختص کی گئی تھی اس میں 30لاکھ روپئے ابھی تک ضلع کلکٹرس کو جاری کردیئے گئے ہیں۔ ضلع کلکٹرس کی جانب سے تجاویز روانہ کرنے کے بعد یہ رقم جاری کی گئی۔ ضلع کلکٹر کی نگرانی میں مساجد میں تعمیر و مرمت کا کام انجام دیا جائے گا اور رقم کے بیجا استعمال کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ائمہ مساجد اور موذنین کی تنخواہوں کے سلسلہ میں بھی عہدیداروں کو تجاویز پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد باغ عام کے ائمہ و مؤذنین کے علاوہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے عہدیداروں سے ایسی مساجد کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت دی جنہیں رمضان المبارک کے دوران تعمیری کاموں کیلئے رقم منظور کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں دیہی علاقوں کی مساجد کی امداد کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ دیہی علاقوں میں مساجد کی کوئی آمدنی نہیں ہوتی۔ تلنگانہ کی تمام عید گاہوں کی صفائی اور عید کے موقع پر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں ضلع کلکٹرس کو ہدایات جاری کی گئی ہیں اور کئی اضلاع میں تعمیری کام کا آغاز ہوگیا۔انہوں نے بتایا کہ شہر کی تاریخی عید گاہ میرعالم کے باب الداخلہ پر ایک خوبصورت کمان کی تعمیر کا منصوبہ ہے اور توقع ہے کہ عید سے قبل کمان کی تعمیر مکمل کرلی جائے گی۔