اوباما ‘ ہندوستانی قیادت سے مسئلہ کشمیر رجوع کریں

اسلام آباد 22 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے امریکی صدر بارک اوباما سے کہا ہے کہ جب وہ آئندہ سال جنوری میں ہندوستان کا دورہ کرینگے تو ہندوستانی قیادت کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ اٹھائیں ۔ نواز شریف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو جلد حل کرنے کے بعد ایشیا میں دیرپا امن ‘ استحکام اور معاشی تعاون کی فضا پیدا ہوسکتی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ بارک اوباما نے کل رات نواز شریف کو فون کرتے ہوئے ہندوستان کی یوم جمہوریہ تقاریب میں بحیثیت مہمان خصوصی اپنی شرکت کے تعلق سے واقف کروایا تھا ۔ اس موقع پر نواز شریف نے ان سے کہا کہ وہ ہندوستانی قیادت کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ اٹھائیں ۔ وزیر اعظم پاکستان کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے صدر اوباما سے کہا کہ وہ ہندوستانی قیادت سے کشمیر کاز کو رجوع کریں ۔ اس مسئلہ کی جلد یکسوئی سے جنوبی ایشیا میں دیرپا امن ‘ استحکام اور معاشی تعاون پیدا ہوسکتا ہے ۔ فون پر ہوئی بات چیت کے دوران نواز شریف نے جاریہ سال کے اوائل میں اپنے دورہ ہندوستان سے بھی واقف کروایا اور کہا کہ وہ بھی ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ نواز شریف نے مئی کے مہینے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے ہندوستان کا دورہ کیا تھا ۔

نواز شریف نے الزام عائد کیا کہ اس دورہ کے بعد سے ہندوستان نے کئی منفی اقدامات کئے ہیں جن میں معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت کی تنسیخ اور لائین آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات بھی شامل ہیں جن کے نتیجہ میں انہوں نے ادعا کیا کہ عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان ‘ پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا حامی نہیں ہے ۔ بیان میں ادعا کیا گیا ہے کہ صدر اوباما نے پاکستان کے موقف کو قبول کیا ہے ۔ ہندوستان نے جاریہ سال اگسٹ میں معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت کو منسوخ کردیا تھا کیونکہ ہندوستان میں پاکستانی ہائی کمشنر نے دہلی میں حریت کانفرنس کے قائدین سے ملاقات کی تھی ۔ کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے اوباما کو دی گئی دورہ پاکستان کی دعوت کی یاد دہانی بھی کروائی ہے جس پر صدر اوباما نے انہیں تیقن دیا ہے کہ وہ کسی اولین موقع پر جیسے ہی اس ملک میں حالات بہتر ہوجائیں گے پاکستان کا دورہ کرنے سے گریز نہیں کرینگے ۔