انگلیوں کے نشان سے منشیات کے استعمال کا اندازہ

لندن ۔ 18 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سائنسدانوں کے مطابق وہ کسی شخص کے فنگر پرنٹس (انگلیوں کے نشان) کا تجزیہ کر کے یہ بتا سکتے ہیں کہ کیا وہ منشیات کا استعمال کر رہا ہے یا نہیں۔برطانیہ میں سرے یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے یہ دکھایا ہے کہ جب کوئی شخص کوکین استعمال کرتا ہے اور جب یہ جسم میں سرایت کر جاتی ہے تو کچھ ایسے کیمیائی مادے پیدا ہوتے ہیں جن کا پتہ فنگر پرنٹس کی مدد سے چل سکتا ہے۔سائنس دان یہ بھی کہتے ہیں کہ فنگر پرنٹس کی مدد سے نشے کا پتہ چلانے کے تجربات جیلوں، معمول کی کام کی جگہوں پر اور ایسے طبی مراکز میں مفید ہو سکتے ہیں جہاں نشہ کرنے والوں کا علاج کیا جاتا ہے۔تاہم اس مقصد کے لیے جس آلے کی ضرورت ہوتی ہے اسے عملی طور پر استعمال کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس کا سائز واشنگ مشین جتنا ہے اور وہ بہت مہنگا بھی ہے۔یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آیا کسی شخص نے نشہ کیا ہوا ہے یا نہیں عام طور پر جسم کے سیال مادوں کے نمونوں مثلا خون، پیشاب یا لعابِ دہن پر انحصار کیا جاتا ہے۔تاہم تحقیق کرنے کرنے والوں کو یقین ہے کہ فنگر پرنٹس کے ذریعے یہ بات جلدی معلوم ہو جائے گی اور یہ انسانوں کے لیے کم دخل اندازی کا باعث ہوگی۔