انگلش میڈیم اسکولس ، تعلیم کومذاق بنارہے ہیں : اعظم خاں

رامپور۔ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اُترپردیش کے وزیر مسٹر اعظم خاں انگریزی ذریعہ تعلیم کے اسکولس تعلیم کو مذاق اور مسخرہ پن بنارہے ہیں۔ وہ ضرورت سے زیادہ بھاری فیس وصول کرتے ہوئے غریب طلبہ کے سرپرستوں کا استحصال اور لوٹ کھسوٹ کررہے ہیں۔ اعظم خاں نے پتھر کھیڑ میں ایک تعلیمی ادارہ کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ (انگلش میڈیم اسکولس) طلبہ کے غریب سرپرستوں کی لوٹ کھسوٹ اور استحصال کررہے ہیں۔ یہ اسکولس تھیلوں میں رقومات بھر کر اپنے گھر لے جارہے ہیں۔ انگلش میڈیم اسکولس تعلیم کو محض مذاق اور مسخرہ پن بنارہے ہیں‘‘۔ وزیر شہری ترقیات نے مزید کہا کہ ایسے افراد کی طرف سے ہمہ مقصدی تعلیمی مراکز بنانے کی ضرورت ہے جو تعلیم کو تجارت بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اعظم خاں نے کہا کہ ’’مَیں چونکہ دیانت دار اور مخلص ترین تعلیم کو فروغ دے رہا ہوں، اس لئے ہندوستان کے ایک سرکردہ صنعت کار کی طرف سے چلائی جانے والی ایک تعلیمی اکیڈیمی کے پرنسپال اب ملائم سنگھ یادو اور میری موت کی دعائیں کررہے ہیں۔ انہوں نے پٹہ پر حاصل کردہ اراضیات پر اسکولس قائم کئے ہیں اور انتہائی افسوسناک ذہنیت رکھتے ہیں‘‘۔ اعظم خاں نے کہا کہ ایک اسکول کے قیام کے لئے بہت جلد ایک عمارت فراہم کی جائے گی۔ مجوزہ اسکول جوہر یونیورسٹی کے خطوط پر کام کرے گا جو غریب اولیائے طلبہ کی جیب کاٹتے ہوئے دولت نہیں بٹوریں گے۔