عوام کو ماوسٹ تحریک سے وابستہ ہونے کا مشورہ ،ترجمان یوگیندر یادو کا بیان
حیدرآباد /17 اپریل ( سیاست نیوز ) دونوں ریاستوں تلنگانہ و آندھراپردیش میں پیش آئے انکاونٹر پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ماوسٹ پارٹی نے کہا کہ انکاونٹرز کی ذمہ دار خود حکومتیں ہیں ۔ تلنگانہ و آندھرا پردیش ریاستی کمیٹی کے ترجمان ماوسٹ پارٹی یوگیندر یادو نے اپنے دو صفحات پر مشتمل اخباری بیان میں دونوں حکومتوں سے انکاونٹرز کے متعلق کئی سوالات کئے ۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب دونوں حکومتیں ترقیاتی پروگراموں کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ ترجمان ماوسٹ پارٹی نے حکومتوں کے ساتھ پولیس پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سرمایہ داری نظام کو مستحکم بنانے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے مظلوم عوام بالخصوص اقلیتوں پر مظالم کو افسوسناک قرار دیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ سی پی آئی ( ایم ایل ) ماوسٹ کی مسلح جدوجہد سے جڑ جائیں ۔ ترجمان ماوسٹ پارٹی نے مزید کہا کہ عوام کو چاہئے کہ وہ انصاف کے تقاضوں کیلئے ماوسٹ کا ساتھ دیں ۔ انہوں نے ماوسٹوں کی جانب سے جاری تربیت کا حصہ بننے کی بھی عوام سے اپیل کی ۔ انہوں نے مرکزی و ریاستی حکومتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مودی حکومت عوامی بھلائی کے اقدامات سے کافی دور جاچکی ہے اور عام آدمی کے حق میں سوائے ناامیدی کے کچھ اور نہیں ہوئے ۔ انہوں نے حصول اراضی بل کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ حکومت سرکاری طور پر غریبوں کی اراضیات کو چھین رہی ہے ۔ ترجمان ماوسٹ اسٹیٹ کمیٹی مسٹر یوگیندر یادو نے انکاونٹرس کے خلاف کہا کہ سچائی کو حکومت کبھی چھپانے میں کامیاب نہیں ہوگی بلکہ سچ عوام کے سامنے آئے گا ۔ انہوںنے شیشاچلم جنگلات کے انکاونٹر پر کہا کہ نہتے مزدوروں و لکڑی کاٹنے والوں کو گولیاں مارکر ہلاک کردیا گیا ۔ انہوں نے لڑکی کاٹنے والے ان افراد سے کہا کہ وہ اب اپنا بدلہ لینے کیلئے تیار ہیں اور ان کا بھی وہی انجام کریں ۔ انہوں نے سیکوریٹی فورسیس کو ظلم کے اعلی کار اور حکومتوں کی کٹ پتلی قرار دیا او رکہا کہ اقلیتوں اور غریب عوام کے حقوق کو نظر انداز کرنے کا عمل خطرناکا رحجانات کے اشارے دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت میں ترقی کے بجائے نفرت میں اضافہ ہوا ہے ۔ مودی ملک کی ترقی کے بجائے ہندوتوا طاقتوں کی ترقی اور انہیں ابھارنے میں جٹے ہیں ۔