انڈونیشیا کے سابق ڈکٹیٹر سوہارتو کے فرزند انتخابی میدان میں

جکارتہ ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) انڈونیشیا کے سابق ڈکٹیٹر سوہارتو کے سب سے چھوٹے بیٹے جنہیں سپریم کورٹ کے ایک جج کے قتل کرنے کا حکم دینے کی پاداش میں مستوجب سزاء قرار دیا گیا تھا، اب پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیں گے۔ ان کی سیاسی پارٹی نے یہ بات بتائی۔ 56 سالہ ٹامی سوہارتو انتخابات میں مشرقی صوبہ پاپوا کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا خطہ ہے جس کا ان کے والد نے 60ء کے دہے میں اقوام متحدہ کی تائید والے ایک ریفرنڈم کے ذریعہ الحاق کرلیا تھا جس کی تقریباً ہر گوشہ سے تنقید کی گئی تھی۔ پاپوا دراصل جزیرہ نیوگنی کا نصف مغربی حصہ ہے اور جکارتہ سے آزادی حاصل کرنے کیلئے عرصہ دراز سے شورش کا شکار ہے۔ سوہارتو کے فرزند برکریا پارٹی سے آئندہ سال ماہ اپریل میں منعقد شدنی انتخابات میں حصہ لیں گے۔ پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ بات بتائی اور یہ بھی بتایا پاپوا کی عوام نے خود سوہارتو سے خواہش کی تھی کہ وہ پارلیمنٹ کی نشست کیلئے انتخابات لڑیں۔