جکارتہ 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) انڈونیشیا میں آج چھوٹے پیمانے پر شراب کا کاروبار کرنے والوں پر بیئر فروخت کرنے پر امتناع عائد کردیا گیا باوجود اس کے کہ شراب کشید کرنے والی کمپنیوں اور سیاحتی شعبہ میں خسارہ کی دہائی دی گئی تھی۔ تاہم مسلم اکثریت والے انڈونیشیا میں شراب نوشی پر جزوی امتناع عائد کیا گیا ہے۔ بیئر کے علاوہ پہلے سے مکس کئے گئے مشروبات جیسے اسپرٹس اور سافٹ ڈرنکس کی آمیزش والے مشروبات اب صرف بڑی بڑی سوپر مارکٹس میں ہی دستیاب ہوں گے جبکہ ملک کے 16000 منی مارٹس اور 55000 دیگر چھوٹی دوکانات پر بیئر اور اسپرٹ کی آمیزش والے سافٹ ڈرنکس دستیاب نہیں ہوں گے البتہ ہوٹلس، ریستورانوں اور شراب خانوں میں اس کی فروخت حسب معمول جاری رہے گی۔ البتہ اس بات پر تجسس پایا جاتا ہے کہ شراب کی فروخت پر جزوی پابندی کا سیاحت کے لئے مشہور اور ہندو اکثریت والے مقام بالی پر کیا اثر ہوتا ہے۔