انٹر طلبہ کی خودکشی کیلئے چیف منسٹر ذمہ دار: راملو نائک

کے ٹی آر کے قریبی شخص کی کمپنی کو کنٹراکٹ دیئے جانے کا الزام
حیدرآباد ۔ 24۔ اپریل (سیاست نیوز) کانگریس کے قائد اور سابق ایم ایل سی راملو نائک نے الزام عائد کیا کہ انٹرمیڈیٹ طلبہ کی خودکشی دراصل سرکاری قتل کے مترادف ہے۔ لہذا حکومت کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا جانا چاہئے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے راملو نائک نے کہا کہ خانگی ادارہ کو انٹرمیڈیٹ امتحانات کا کنٹراکٹ دیا گیا جسے امتحانات کا کوئی تجربہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ دراصل کے ٹی راما راؤ کے قریبی شخص کا ہے، لہذا عہدیدار بھی کچھ کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔ راملو نائک نے کہا کہ حکومت کی خاموشی کے نتیجہ میں تاحال 25 طلبہ خودکشی کرچکے ہیں اور چیف منسٹر نے خاطیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے قیام کے بعد سے اس قدر بڑا اسکام کبھی منظر عام پر نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس لاٹھی چارج کر رہی ہے حالانکہ عہدیداروں کو چاہئے تھا کہ وہ طلبہ اور سرپرستوں میں بھروسہ پیدا کرتے کہ ان کے ساتھ مکمل انصاف کیا جائے گا ۔ راملو نائک نے کہا کہ ٹوئیٹر پر سرگرم رہنے والے کے ٹی آر خاموش ہیں۔ اس لئے خانگی کمپنی ان کے برادر نسبتی کے دوست کی ہے۔ راملو نائک نے کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ہمیشہ ہلاکتوں پر سیاست کرتے رہے ہیں۔ تلنگانہ تحریک کے دوران تقریباً 1200 طلبہ نے اپنی جانوں کی قربانی دی اور کے سی آر نے اس کا فائدہ اٹھاکر اقتدار حاصل کرلیا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر طلبہ کے سرپرستوں سے ملاقات سے گریز کر رہے ہیں۔ کانگریس سے انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کیلئے ان کے پاس وقت ہے لیکن طلبہ کے سرپرستوں کے لئے وقت نہیں ۔ چیف منسٹر کو طلبہ کے مستقبل سے زیادہ سیاسی انحراف کی فکر ہے۔