انٹرنیٹ دھوکہ دہی سے بچنے یو آر ایل پر توجہ دینا بے حد ضروری

مختلف لالچ دینے والے ای میلس کو نظر انداز کرنے رام بابو کا مشورہ
حیدرآباد ۔ 26 ۔ فروری : ( پریس نوٹ) : روزگار کے مواقع، نقد انعامات جیسے ای میل سے بچیں۔ بطور خاص ایسے ای میلس جن میں بینک کی تفصیلات پوچھی گئی ہوں ہرگز جواب نہ دیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں کل ایک روزہ ورکشاپ ’’انفارمیشن سیکوریٹی ایجوکیشن اویرنیس‘‘ پر جناب رام بابو (انڈسٹری پروفیشنل) نے لکچر دیتے ہوئے کیا۔ اس ورکشاپ کا انعقاد یونیورسٹی کے شعبۂ کمپیوٹر سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ، سی ڈیاک، حیدرآباد اور کمپیوٹر سوسائٹی آف انڈیا، حیدرآباد چیاپٹر نے کیا تھا۔ جناب رام بابو نے اپنے خطاب کہا کہ انٹرنیٹ پر اپنے پاس ورڈ کبھی بھی سیو نہ کریں۔ بطور خاص آن لائن شاپنگ کرتے وقت اپنے پاس ورڈ مکمل ڈیلیٹ کردیں۔ فیشنگ (بینکنگ معلومات کا سرقہ) سے بچنے کے لیے یو آر ایل (ویب سائٹ کا ایڈریس) کا خاص خیال رکھیں۔ پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور اساتذہ نے مختلف سوالات کیے جس کے تسلی بخش جوابات دیئے گئے۔

اقلیتوں کے ہاسٹلس و اسکولس کیلئے بجٹ اجرائی کا جی او منسوخ
اقلیتوں میں شدید تشویش ، تکنیکی خامیوں کا بہانہ
حیدرآباد۔/26فبروری، ( سیاست نیوز) حکومت نے ریاست میں 10 اقلیتی پری میٹرک ہاسٹلس، 20پوسٹ میٹرک ہاسٹلس، 6اقامتی اسکولس اور حیدرآباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے سلسلہ میں بجٹ کی اجرائی سے متعلق جی او کو منسوخ کردیا ہے۔ حکومت کے اس اچانک فیصلہ سے اس اسکیم پر عمل آوری کے بارے میں اقلیتوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اقلیتی طلبہ کے اسکالر شپ کیلئے الاٹ کردہ بجٹ مکمل خرچ نہ ہونے کے امکانات کے تحت اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے اقلیتی طلبہ کے ہاسٹلس، اقامتی اسکول اور ویمن ہاسٹل کی عمارتوں کی تعمیر کی تجویز پیش کی تھی۔ حکومت نے اس تجویز کو منظوری دے دی جس کے بعد 20فبروری کو محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے جی او آر ٹی 66جاری کیا گیا تھا تاہم تین دن قبل 22فبروری کو محکمہ اقلیتی بہبود نے اس جی او سے دستبرداری کے احکامات جاری کردیئے تاہم اس کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس تجویز کی منظوری کے سلسلہ میں بعض تیکنکی خامیوں کے سبب جی او کو واپس لینا پڑا۔حکومت نے 10اضلاع میں پری میٹرک ہاسٹلس کی عمارتوں کی تعمیر کیلئے 22کروڑ روپئے، 20پوسٹ میٹرک ہاسٹلس کیلئے 44کروڑ روپئے، 6 اقامتی اسکولس کیلئے 87کروڑ روپئے اور ورکنگ ویمن ہاسٹل کی تعمیر کیلئے 2کروڑ 20لاکھ روپئے مختص کئے تھے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے ذرائع نے بتایا کہ تیکنکی خامیوں کو دور کرتے ہوئے بہت جلد محکمہ فینانس دوبارہ رقم جاری کردے گا۔