انٹرمیڈیٹ کارپوریٹ کالجس کی بدعنوانیوں پر حکومت کی پردہ پوشی

تنقیح کے ثبوت پر کارروائی ندارد، کالجس انتظامیہ سے بھاری جرمانوں کی ادائیگی
حیدرآباد۔5نومبر(سیاست نیوز) ریاست میں انٹرمیڈیٹ کالجس بالخصوص وہ کالجس جو کارپوریٹ اداروں کی جانب سے چلائے جا رہے ہیں وہ اپنی بدعنوانیوں اور غیر قانونی حرکتوں کی پردہ پوشی کیلئے بھاری جرمانے ادا کر رہے ہیں اور انہیں اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ ان کی جانب سے ادا کئے جانے والے جرمانے کے بعد حکومت یا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی اسی لئے کالج انتظامیہ کو کوئی خوف نہیں ہے اور نہ ہی انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ کوئی ان کے خلاف کاروائی کرے گا۔ ریاست تلنگانہ میں کالجس کی تنقیح اور ان کے خلاف شکایات پر کی گئی تحقیقات کے بعد جو ویجلنس رپورٹ حکومت کو داخل کی گئی ہے اس پر دو سال کے دوران کوئی کاروائی نہیں کی گئی بلکہ تنقیح کرتے ہوئے بدعنوانیوں و دھاندلیوں کے مرتکب کالج انتظامیہ کو کلین چٹ دینے والے ریجنل انسپکشن آفیسرس کے خلاف داخل کردہ رپورٹ پر بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی حکومت اور اس کے اداروں کے متعلق کالجس کے انتظامیہ کو کوئی خوف نہیں ہے۔ 30اکٹوبر 2015کو ایک رپورٹ انٹرمیڈیٹ بورڈ اور محکمہ اعلی تعلیمات کو پیش کی گئی تھی جس میں اس بات کی جانب توجہ دہانی کروائی گئی تھی کہ کس طرح کارپوریٹ کالجس کی جانب سے اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے بعد ازاں ان کالجس کو فراہم کئے جانے والے اجازت ناموں کے سلسلہ میں ایک رپورٹ کی تیاری عمل میں لائی گئی اور اس رپورٹ میں ان عہدیداروں کو قصوروار قرار دیا گیا جو تمام بدعنوانیوں ‘ بے قاعدگیوں اور دھاندلیوں کا علم رکھتے ہوئے بھی ان کالجس کے اجازت ناموں کی اجرائی میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ان رپورٹس کے موصول ہونے کے باجود ان دونوں رپورٹس پر حکومت کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی گئی بلکہ عہدیداروں کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی تک نہیں کی گئی۔ بتایاجاتاہے کہ ریاست تلنگانہ میں چلائے جانے والے کارپوریٹ تعلیمی اداروں کے انتظامیہ میں اہم سیاسی قائدین ہونے کے سبب کاروائی نہیں کی جارہی ہے ا ورجن کالجس کا تعلق سیاسی قائدین سے نہیں ہے وہ ان غلطیوں پر کئے جانے والے جرمانہ کی ادائیگی کے ساتھ کالجس چلا رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ سال 2009-10کے دوران انٹرمیڈیٹ کالجس نے 1کروڑ روپئے تک جرمانے ادا کئے تھے اور اسی طرح اس کے بعد بھی جرمانوں کی ادائیگی کاسلسلہ جاری ہے۔ کالجس میں اضافی کلاسس اور ٹیوشن نہ پڑھانے کی پابندی کے باوجود بیشتر تمام کالجس میں اضافی کلاسس اور ٹیوشن پڑھایا جانا معمول کی بات ہے۔ اسی طرح حاصل اجازت سے زیادہ طلبہ کو داخلہ فراہم کرتے ہوئے دیگر اداروں کے نام سے طلبہ کو امتحان تحریر کروانا اور ایک اجازت نامہ پر کئی کالجس کو چلانے کے علاوہ کالج کی عمارتوں میں حفاظتی انتظامات بالخصوص فائر سیفٹی امور کا خیال نہ رکھے جانے کی بھی متعدد شکایات کی رپورٹس میں نشاندہی کی گئی ہے ۔ محکمہ اعلی تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اجازت حاصل ہونے کی صورت میں بڑے پیمانے پر ان کالجس کے خلاف کاروائی کی جاسکتی ہے جو ان خلاف ورزیوں کے علاوہ بھاری فیس جو کہ منظورہ فیس سے کئی ہزار روپئے زیادہ ہے کے معاملہ میں ان کالجس کو مقفل کرنے کا سبب بن سکتی ہے لیکن دونوں ویجلنس رپورٹس حکومت کے زیر غور ہونے کے سبب محکمہ کوئی کاروائی سے قاصر ہے۔