انوارالعلوم کالج اور اس سے ملحقہ ادارے وقف بورڈ کی تحویل میں

ممتاز یار الدولہ وقف مجلس امنا میں بے قاعدگیوں پر مقدمہ درج ، جناب شیخ محمد اقبال اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/10اپریل، ( سیاست نیوز) ریاستی وقف بورڈ نے شہر کے دو بڑے اوقافی اداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک ادارہ کو اپنی راست تحویل میں لے لیا ہے جبکہ دوسرے ادارہ میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف سی سی ایس میں ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال ( آئی پی ایس) نے آج پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ انوارالعلوم کالج اور اس سے ملحقہ دیگر تعلیمی اداروں، ملگیات اور مکانات کو بورڈ نے اپنی راست تحویل میں لے لیا ہے۔ اس کے علاوہ مجلس انتظامی انوارالعلوم کالج کی جانب سے وقف قواعد کی خلاف ورزی اور دیگر بے قاعدگیوں کی تحقیقات کے سلسلہ میں سی سی ایس میں شکایت درج کرائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ممتاز یارالدولہ وقف مجلس امناء کی جانب سے بے قاعدگیوں کے سلسلہ میں بھی سی سی ایس میں علحدہ ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ انوارالعلوم کالج اور اس سے ملحقہ جائیدادیں باقاعدہ وقف ہیں اور اس سلسلہ میں وقف بورڈ میں تمام ریکارڈ موجود ہے۔ وقف نامہ اور منتخب کے علاوہ وقف گزٹ میں بھی ان جائیدادوں کے وقف ہونے کا ثبوت موجود ہے لیکن انوارالعلوم کالجس کی مجلس انتظامی وقف ہونے سے انکار کررہی ہے۔ شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ گزٹ 31-A مورخہ 30اگسٹ 1984ء میں اسے وقف قرار دیا گیا۔ 9اگسٹ 2001ء کو بورڈ کی جانب سے نوٹس جاری کی گئی اور سکریٹری انوارالعلوم سے خواہش کی گئی کہ وہ وقف فنڈ اور اکاؤنٹ کی تفصیلات پیش کریں۔ 30اگسٹ 2001ء کو بورڈ نے گزٹ کی کاپی فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ سکریٹری انوارالعلوم کالجس یہ جانتے ہوئے بھی کہ جائیدادیں وقف گزٹ میں موجود ہیں، انہوں نے ایک سال کی مدت کے دوران اسے چیلنج نہیں کیا اور از روئے قانون وقف گزٹ میں شمولیت کے ایک سال بعد کسی بھی جائیداد کے بارے میں دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کی جانب سے وقف بورڈ کو جو جواب داخل کیا گیا ہے اس میں صرف مسئلہ کو ٹالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لہذا بورڈ نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے محبوب عالم خاں کو معطل کردیا اور اداروں کو راست نگرانی میں لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے تعلیمی اداروں کی کارکردگی متاثر نہیں ہوگی اور اڈمنسٹریٹیو اسٹاف، لکچررس اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں بحال رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ مجلس انتظامی نے 1955ء میں ان اداروں کو وقف کیا تھا۔ شیخ محمد اقبال نے کہا کہ ادارہ کی جانب سے ابھی تک وقف بورڈ کو نہ ہی وقف فنڈ دیا گیا اور نہ حسابات پیش کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ انوارالعلوم انجینئرنگ کالج کو فنڈنگ کے معاملہ کی بھی جانچ کی جائے گی۔ ممتاز یارالدولہ وقف پر کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ غلام یزدانی صدر اور خسرو بیگ سکریٹری پر مشتمل کمیٹی نے محبوب عالم خاں کو سکریٹری کے عہدہ سے علحدہ کردیا۔ جب یہ معاملہ عدالت میں پہنچا تو عدالت نے وقف بورڈ کے اختیارات کی وضاحت کی جس کے باعث غلام یزدانی کی صدارت میں موجود کمیٹی برقرار رہی۔

انہوں نے بتایا کہ پہلا وقف نامہ ہی وقف بورڈ کیلئے قابل قبول ہے کیونکہ اُمور مذہبی نے دوسرے وقف نامہ کو مسترد کردیا تھا۔ پہلے وقف نامہ کے تحت تین رکنی کمیٹی کے قیام کی گنجائش ہے۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں اس بات کا انکشاف ہواکہ 2011-12ء کے دوران ایک کروڑ 41لاکھ 11ہزار 531روپئے کمیٹی نے جمع کئے لیکن وقف بورڈ میں 7% فنڈ جمع نہیں کیا گیا۔ ممتاز کالج اور دیگر اداروں سے ایک روپیہ بھی وقف فنڈ حاصل نہیں ہوا۔ اس ادارہ نے بھی وقف بورڈ کو حسابات کی تفصیل داخل نہیں کی لہذا وقف قواعد کی خلاف ورزی اور دیگر دفعات کے تحت سی سی ایس میں ایف آئی درج کرائی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ممتاز یارالدولہ وقف کے متولی اور تین رکنی کمیٹی کا معاملہ عدالت میں زیر دوراں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ محمد اقبال نے کہا کہ سابقہ وقف بورڈ کی مبینہ بے قاعدگیوں کے سلسلہ میں حکومت نے سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں احکامات جاری کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اندرون دو ماہ تحقیقات کی تکمیل کیلئے سی بی سی آئی ڈی کو ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سی بی سی آئی ڈی مقررہ وقت پر تحقیقات مکمل کرلے گی۔