سنگین معاشرتی مسائل پر قومی سطح پر شعور بیداری پر زور ، نوبل انعام یافتہ جہدکار کیلاش ستیارتھی کا صحافت سے ملاقات پروگرام سے خطاب
حیدرآباد ۔ 10 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : عالمی قانون برائے انسداد بچہ مزدوری کے لیے تحریک ہندوستان سے چلائی گئی لیکن افسوس کہ اس قانون کا نفاذ ابھی ہندوستان میں ہی نہیں ہورہا ہے ۔ نوبل انعام یافتہ جہدکار مسٹر کیلاش ستیارتھی نے آج حیدرآباد میں صحافت سے ملاقات کے ایک پروگرام سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان سے شروع کردہ اس تحریک کو عالمی سطح پر کامیابی حاصل ہوئی ہے اور امید ہے کہ مستقبل قریب میں ہندوستان بھی اس قانون کے نفاذ پر فیصلہ کرے گا ۔ مسٹر کیلاش ستیارتھی نے مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ بچہ مزدوری اور بندھوا مزدور جیسے سنگین معاشرتی مسائل کے علاوہ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے معاملات پر آواز اٹھائیں چونکہ جب تک مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں نہیں کی جاتیں اس وقت تک مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات ممکن نہیں ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں آج بھی سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لڑکیاں جنسی ہراسانی ، چھیڑ چھاڑ اور دیگر استحصال کا شکار بنی ہوئی ہیں انہیں ان تکلیف دہ مسائل سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ قومی سطح پر شعور بیدار کیا جائے اور یہ احساس پیدا کیا جائے کہ بچہ کسی مذہب یا خاندان تک محدود نہیں ہوتا بلکہ بچہ کمسنی میں ہر کسی کی توجہ کا طلب گار ہوتا ہے ۔ مسٹر ستیارتھی نے بتایا کہ اس ملک میں رہنے والوں کو یہ حق نہیں کہ وہ اس سرزمین کو درگا یا لکشمی کی سرزمین کہیں چونکہ اس ملک میں صنف نازک کئی مسائل سے دوچار ہے اور ہم اس پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان یقینا نوجوانوں کا ملک ہے لیکن اس ملک کی اجتماعی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان نوجوانوں میں اخلاق ، تعلیم اور مساوات پیدا کئے جائیں صرف معاشی اعتبار سے ملک کا استحکام ملک کی ترقی قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں بچپن خطرہ میں ہے اور بچپن کو خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے صرف محکمہ جاتی کاغذی کارروائیاں یا پھر غیر سرکاری تنظیموں کو کام نہیں کرنا چاہئے بلکہ سیاسی ، سماجی ، مذہبی ، صحافتی گوشوں کو بھی بچوں کے بچپن کے تحفظ کے لیے اقدامات میں حصہ لینے کی ضرورت ہے ۔ مسٹر کیلاش ستیارتھی نے قانون حق تعلیم پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب اس قانون پر بہتر عمل آوری ہونے لگے گی تو ضرور ہر بچہ اسکول میں تعلیم حاصل کرے گا اور مزدوری کی سمت رغبت میں خود بہ خود کمی واقع ہوگی ۔ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں فی الحال اعداد و شمار کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کا تناسب ملک کی آبادی میں 41 فیصد سے تجاوز کرچکا ہے لیکن ملک کی اس 41 فیصد آبادی کے لیے مرکزی حکومت کے سرکاری بجٹ میں 4 فیصد حصہ حاصل ہورہا ہے ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت آئندہ پارلیمانی اجلاس کے دوران بچہ مزدوری کے متعلق عالمی قانون کو ہندوستان میں نافذ کرے گی ۔ مسٹر کیلاش ستیارتھی نے بتایا کہ ملک اور ریاست میں اگر قانون حق تعلیم پر عمل آوری کو یقینی بناتے ہوئے مفت داخلہ اور مڈ ڈے میل فراہم کیا جانے لگے تو حالات میں کافی سدھار آئے گا ۔ انہوں نے حیدرآباد میں پولیس کی تلاشی مہم کے دوران بندھوا مزدوروں کو رہا کروانے کی کارروائی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی مستعدی سے بچپن کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔۔