انسانی جانوں کے تحفظ اور بین الاقوامی امن کیلئے دنیا بے چین

نوجوانوں کو صحیح راہ دکھانے اور قیام امن کو یقینی بنانے کی تلقین، بین الاقوامی کانفرنس سے قونصل جنرل ایران و دیگر پیشوایان مذاہب کا خطاب

حیدرآباد۔/15جون، ( سیاست نیوز) قونصل خانہ ایران ( حیدرآباد ) کے زیر اہتمام ہوٹل ریڈیسن بلو ، بنجارہ ہلز میںآج منعقدہ سمینار بعنوان’’ بین الاقوامی کانفرنس عالمی مذاہب میں نجات دہندہ کا تصور اور دنیا کا مستقبل‘‘ سے مختلف مذاہب کے پیشوایان نے شرکت کرتے ہوئے تمام مذاہب میں نجات دہندہ کا تصور اور عالمی امن پر سیر حاصل خطاب کیا۔ ابتداء میں قونصل جنرل ایران متعینہ حیدرآباد نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ نوجوانوں کو صحیح راہ دکھانے اور انھیں عالمی ماحول سے واقف کرواتے ہوئے قیام امن کو یقینی بنانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ انھیں حقائق سے واقف کروایا جائے۔ آج دنیا انسانی جانوں کے تحفظ اور بین الاقوامی امن کیلئے بے چین ہے اور اس دور میں معاشی انحطاط کے سبب حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روحانیت کے فقدان کے باعث پیدا شدہ ان حالات سے نئی نسلوں کو نکالنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ تمام مذاہب میں موجود اشتراکیت کو ان کے سامنے پیش کرتے ہوئے روحانی اُمور پر انہیں یکجا کیا جائے۔ آقا حسن نوریان نے بتایا عالمی امن اور دنیا کے مستقبل کو بہتر بنانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ کچلے ہوئے طبقات کے ساتھ ساتھ ناامید اور نظر انداز کردہ لوگوں کی آواز اٹھائی جائے۔ دنیا کے جنگی ماحول کو ختم کرنے کیلئے تمام مذاہب کے درمیان محبت و الفت کے فروغ کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران نے یہ منصوبہ تیار کیا جس کے تحت تمام مذاہب کے ماننے والوں کو قریب لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر موجود جناب محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ، آقا حجۃ الاسلام مہدی مہدوی پور نمائندہ آیت اللہ خامنہ ای اسلامی جمہوریہ ایران، مولانا پیر شبیر نقشبندی، جناب نانک سنگھ نشتر، فادر ٹی پیاکیم سیمویل، سری مہاجئے دیو داس خاکی مہاراج، ڈاکٹر ہومی بی دھلا کے علاوہ دیگر پیشوایان مذاہب کا خیرمقدم کیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹی آر ایس و چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سیکولرازم اور فرقہ وارانہ یکجہتی کے فروغ کیلئے سرگرم عمل رہنے والی شخصیت کا نام ہے۔ انہوں نے حیدرآباد۔ ایران کے تہذیبی و ثقافتی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد و ایران کے تعلقات نہایت قدیم ہیں اور ان میں مزید فروغ کیلئے ان کی حکومت سنجیدہ اقدامات کرے گی۔

حیدرآباد سے راست ایران کیلئے پرواز سے متعلق ان کی حکومت کی جانب سے مرکز سے نمائندگی کی جائے گی۔ سمینار کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی مملکتوں میں اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، دنیا آمریت و شہنشاہیت کے خلاف سرگرم ہوچکی ہے۔ جناب محمود علی نے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جمہوریت ہمارے لئے مثالی ہے۔ انہوں نے تحریک تلنگانہ کے اُتار چڑھاؤ کا بھی اس موقع پر تذکرہ کیا۔ سی رامچندر ریڈی رکن اسمبلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا کہ مذہب سے بالا تر ہوکر انسانیت کے نام پر اگر ہم متحد ہوجائیں تو دنیا بھر میں قیام امن یقینی ہوگا۔ دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جو انسان کے احترام کی تعلیم نہ دیتا ہو۔پیشوایان مذاہب کو چاہیئے کہ وہ نوجوانوں میں مذہبی تعلیمات کے فروغ کے ذریعہ انہیں ذہنی اور معاشرتی طور پر منتشر ہونے سے بچائیں۔ حیدرآباد سے ایران کیلئے راست پرواز کے سلسلہ میں بہت جلد نریندر مودی حکومت سے نمائندگی کی جائے گی۔ حجۃ الاسلام مہدی مہدوی پور نے کہا کہ تقریباً تمام مذاہب میں نجات دہندہ کا تصور موجود ہے لیکن اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے نجات دہندہ کے متعلق وضاحتیں پیش کرتے ہوئے نشانیاں بھی بتائی ہیں۔ انہوں نے مختلف مذاہب و عقائد کے درمیان موجود اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اشتراکیت پر اتحاد کا نظریہ قائم کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس امر کے ذریعہ عالمی سطح پر قیام امن کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ تمام مذاہب میں ظلم کے خلاف جدوجہد اور قیام عدل و انصاف کی تعلیمات میں کافی اشتراکیت ہے۔ مولانا پیر شبیر نقشبندی جانشین حضرت افتخار علی شاہ وطن ؒ نے کہا کہ تمام مذاہب میں عقائد کے مطابق پیام امن موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب تک تمام مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام نہیں کریں گے اس وقت تک دنیا میں امن کو قائم کرنا دشوار کن ہوگا۔ مولانا نے مزیدکہا کہ ایران کے تعاون و اشتراک سے ایک تحقیقی مرکز حیدرآباد میں قائم کیا جائے گا اور انہیں امید ہے کہ حکومت تلنگانہ بھی اس سلسلہ میں تعاون کرے گی۔ ڈاکٹر ہومی بی دھلا پارسی مذہبی سربراہ نے کہا کہ دنیا بھر میں پیدا شدہ جنگی ماحول میں انسانیت کا کیا کردار ہونا چاہیئے اس پر غور کئے جانے کی ضرورت ہے۔ خواتین و بچوں کے ساتھ اچھے سلوک کے ذریعہ ہم اپنی منفرد شناخت اور قیام امن میں معاونت کرسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو چاہیئے کہ وہ نہ صرف اپنے مذہب سے محبت رکھیں بلکہ دیگر مذاہب کا احترام بھی لازمی طور پر کریں۔ سردار نانک سنگھ نشتر نے اپنے خطاب کے دوران بین مذہبی مذاکرات کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مذاکرات کا انعقاد ایک دوسرے کو سمجھنے اور مذاہب کو جاننے میں مددگار و معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ فادر ٹی پیاکیم سیمویل نے اپنے خطاب میں مذاہب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر آخر میں آقا علی اکبر نیرومند نے شکریہ ادا کیا۔ اس افتتاحی اجلاس کی کارروائی مس فاطمہ نقوی نے چلائی۔ بعد ازاں دو علحدہ علحدہ اجلاس منعقد ہوئے جس میں مختلف مذاہب کے پیشوایان کی جانب سے مقالہ جات پیش کئے گئے۔ افتتاحی تقریب میں موجود اہم شخصیات میں قومی اقلیتی صدر بھارتیہ جنتا پارٹی جناب ایس ایف لائق علی، مولانا حافظ عثمان نقشبندی کے علاوہ ڈاکٹر سید غوث الدین و دیگر موجود تھے۔