نئی دہلی ۔ 24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جے ڈی یو کے رکن پارلیمنٹ ہری ونش نے آج راجیہ سبھا میں اس بات کا مطالبہ کیا کہ سابق یو پی اے حکومت کے دور میں عوامی شعبہ کے بینکس کی جانب سے فراہم کئے گئے مبینہ اندھادھند قرضہ جات کے معاملہ میں تحقیقات کروائی جائے۔ وقفہ صفر کے دوران اس مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی شعبہ کے بینکس کی جانب سے فراہم کئے گئے قرضہ جات 2008ء تک 60 سال میں 18 لاکھ کروڑ روپئے سے بڑھ کر 2009ء اور 2014ء کے درمیان 52 لاکھ کروڑ روپئے ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے گذشتہ ہفتہ تحریک عدم اعتماد پر مباحث پر جواب کے دوران قرضہ جات کو ’’لینڈ مائینس‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اندھادھند قرضہ جات دینے کی وجہ بیاڈ لونس اور اسٹریسڈ اسیٹس کے معاملہ میں جو صورتال پیدا ہوتی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ بینکس کی اس صورتحال کیلئے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کون ہیں اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔