اندرون ہفتہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کو قطعیت

حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کے بجٹ کی تیاری کے سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود محمد جلال الدین اکبر نے مختلف اقلیتی اداروں کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا ۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے ایک ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کا پہلے ہی اعلان کردیا ہے، اسی مناسبت سے محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار بجٹ کی تیاری میں مصروف ہیں۔ بجٹ میں تعلیم سے متعلق اسکیمات اور غریب اقلیتوں کو چھوٹے کاروبار کے آغاز کیلئے نئی اسکیم کی تیاری پر غور کیا جارہا ہے۔ بجٹ کا تقریباً 60 فیصد تعلیمی سرگرمیوں کیلئے صرف کیا جائے گا جبکہ مابقی 40 فیصد میں معاشی اور سماجی ترقی سے متعلق اسکیمات شامل ہوں گی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت مزید ایسی اسکیمات تیار کریں جس کے تحت غریب اقلیتوں کو خود روزگار اسکیمات کے تحت چھوٹے کاروبار سے منسلک کیا جاسکے۔ اس سلسلہ میں فینانس کارپوریشن کی جانب سے قرض کی فراہمی کی تجویز ہے۔ 10 تا 25 ہزار روپئے تک کا قرض کارپوریشن فراہم کرے گا جبکہ اس کے مساوی رقم بینک بطور قرض جاری کرے گا۔

اس اسکیم کے سلسلہ میں قواعد و ضوابط کو قطعیت دی جارہی ہے ۔ اندرون دو ایک ہفتہ محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ تجاویز کو قطعیت دیتے ہوئے اسے وزیر فینانس ای راجندر کو پیش کیا جائے گا ۔ ابتداء میں تیار کی گئی بجٹ تجاویز میں اقلیتی فینانس کارپوریشن کیلئے 173 کروڑ کے بجٹ کی تجاویز پیش کی گئی تھی، تاہم اس میں مزید دو سو کروڑ اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اردو اکیڈیمی کی بجٹ تجاویز کو 25 کروڑ سے بڑھا کر 60 کروڑ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس میں 25 کروڑ روپئے اردو گھر شادی خانوں کی تعمیر کیلئے مختص رہیں گے جبکہ فروغ اردو ، اردو کتابوں کی اشاعت اور اردو میڈیم اسکول و کالجس میں انفراسٹرکچر کی فراہمی پر باقی رقم خرچ کی جائے گی ۔ حج کمیٹی کی بجٹ تجاویز کو دو سے بڑھاکر چار کروڑ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف مینارٹیز کیلئے 6 کروڑ کے بجائے 10 کروڑ بجٹ کی تجویز پیش کی جارہی ہے ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کی توجہ اس بات پر ہے کہ بجٹ کی ساری رقم مقررہ مدت کے دوران خرچ کی جائے اور اسکیمات کے فوائد حقیقی مستحقین تک پہنچیں۔