حیدرآباد ۔ 21 اپریل ۔ ( سیاست نیوز)ریاست تلنگانہ میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے جاری سرگرمیوں کے مطابق آئندہ چند ماہ کے دوران بڑے پیمانے پر عہدیداروں کے تقررات کو ہری جھنڈی دکھائے جانے کا امکان ہے ۔ حکومت کی جانب سے ریاست کے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا اعلان کیاگیا تھا لیکن تاحال یہ 12 فیصد تحفظات قابل عمل نہیں بنائے گئے ہیں۔ 12فیصد تحفظات کے بغیر اعلامیہ کی اجرائی کی صورت میں مسلم نوجوان تحفظات کے زمرے سے محروم ہوسکتے ہیں اور اگر حکومت ایک لاکھ مخلوعہ جائیدادوں کیلئے امتحانات کے انعقاد کا اعلامیہ جاری کرتی ہے تو ایسی صورت میں مسلم نوجوانوں کو 12,000 ملازمتیں حاصل ہوسکتی ہیں جبکہ بغیر مسلم تحفظات کے اگر اعلامیہ کی اجرائی عمل میں آتی ہے تو ایسی صورت میں موجودہ 4 فیصد تحفظات کے مطابق ہی فائدہ حاصل ہوگا جس سے 8000 مسلم نوجوانوں کو ملازمتوں کے حصول میں دشواری کے خدشات پیدا ہوجائیں گے ۔ ریاست میں موجود مذہبی ، سیاسی و سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اگر اس معاملے میں تحریک چلاتے ہوئے حکومت کی توجہ مبذول کروائیں تو ممکن ہے کہ حکومت 12 فیصد تحفظات کے سلسلے میں احکامات کی اجرائی کے بعد ہی تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے اعلامیہ کی اجرائی کو یقینی بنائے گی ۔
حکومت کی سنجیدگی کے متعلق آج بھی شبہات نہیں ہے لیکن اگر ایسا ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں 12 فیصد تحفظات کے سب سے بڑے فائدے سے مسلم طبقات محروم ہونے کاخدشہ ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں موجود طاقتور مذہبی و سیاسی رہنما فوری طورپر حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرواتے ہوئے 12فیصد تحفظات کے سلسلے میں بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ عاجلانہ طورپر تیار کرواتے ہوئے تحفظات کے اعلان کیلئے دباؤ ڈالیں تو ممکن ہے کہ پہلے اعلامیہ میں ہی جس میں زائد از ایک لاکھ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا امکان ہے اُس میں 12 تا 15 ہزار مسلمانوں کو ملازمتیں حاصل ہوسکتی ہیں اور ریاست میں موجود مسلم عہدیداروں کی کمی کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح 12فیصد تحفظات کے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل احکامات کی اجرائی کی صورت میں ریاست تلنگانہ کے معیاری پروفیشنل کالجس میں مسلم نوجوانوں کو مناسب داخلے حاصل ہوسکتے ہیں اور اُن کے مستقبل کو تابناک بنانے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ سیاسی و مذہبی قائدین کو چاہئے کہ وہ فوری طورپر اس مسئلے کو مساجد کے ذریعہ ہی صحیح عوام کے درمیان پیش کریں تاکہ حکومت کو اس بات کا احساس ہو کہ عوام سے کئے گئے وعدے کو پورا کرنے کیلئے عوامی دباؤ بڑھتا جارہا ہے ۔