حیدرآباد ۔ 4 ۔ مارچ : ( ایجنسیز ) : صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی و قائد اپوزیشن آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اس پیش قیاسی کا اظہار کیا کہ انہیں اندرون تین سال اقتدار حاصل ہوگا ۔ ان کا ادعا ہے کہ آندھرا پردیش میں اقتدار پر آنے کے لیے کسی قسم کا کوئی راز پوشیدہ نہیں ہے تاہم ان کا خیال ہے کہ قبل انتخابات انہیں اقتدار حاصل ہوجائے گا ۔ صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے یہاں وجئے واڑہ میں منگل کو بتایا کہ اس کے لیے وہ نئے لائحہ عمل کو قطیعت دے رہے ہیں ۔ وائی ایس جگن موہن ریڈی نے مزید بتایا کہ ریاست آندھرا پردیش کی راجدھانی کے لیے حصول اراضیات پر حکومت مسلسل اجلاس منعقد کررہی ہے جس کا نتیجہ اقتدار سے محرومی کا باعث بنے گا ۔ تاہم انہوں نے یہ کس طرح ممکن ہوگا اس تعلق سے کچھ بھی نہیں بتایا لیکن اس بات کا دعویٰ کیا کہ انہیں اندرون تین سال اقتدار حاصل ہوگا ۔ انہوں نے آگے چل کر کہا کہ چندرا بابو کے دور اقتدار میں جبرا حاصل کردہ اراضیات کو وارثین میں دوبارہ واپس کردیں گے ۔
قائد اپوزیشن اے پی نے بتایا کہ کانگریس ان پر نظر ٹکائی ہوئے ہے جب کہ تلگو دیشم کسی بھی طرح انہیں کمتر دکھانے کی کوشش کررہی ہے ۔ اسی دوران ڈی واما وزیر نے کہا کہ جیل منتقلی کے خوف سے وہ بی جے پی سے تائید حاصل کرسکتے ہیں ۔ کیوں کہ ان پر کئی الزامات ہیں جو کہ سی بی آئی کے ہاں زیر تحقیقات ہیں ۔ وزیر نے جگن کے جمہوری انداز میں منتخب حکومت کا اندرون تین سال زوال ہوجائے گا کہ ادعا پر پر استفسار کیا کہ آخر یہ کس طرح ممکن ہوگا اس کی وضاحت کریں کیوں کہ کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں ہے اور ہر چیز واضح ہے دوسری طرف آندھرا پردیش ریاست کو مرکز نظر انداز کر کے تلگو دیشم پارٹی اور اس کے قائدین کو پریشان کن صورتحال کا شکار بنا سکتی ہے کیوں کہ بجٹ منظور نہ کرتے ہوئے ریاست کو پریشانی میں مبتلا کررہی ہے ۔ اسپیکر کوڈیلہ شیوا پرساد نے کہا کہ مرکز سے بجٹ کی عدم منظوری کے ذریعہ ریاست کو کئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اس طرح کی صورتحال سے ریاست کو امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی ہے ۔ مرکز کو چاہئے کہ وہ ریاست کو کشادہ نظر سے دیکھیں اور جتنا ممکن ہوسکے ریاست کی فلاح و بہبود کے لیے تعاون کریں ۔ انہوں نے آگے چل کر کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت کی عدم تعاون کی صورتحال کے بعد تلگو دیشم ارکان پارلیمنٹ 16 مارچ کو پارلیمنٹ میں احتجاج کی تجویز رکھتے ہیں تاکہ پارلیمنٹ کے جاریہ بجٹ اجلاس میں ریاست آندھرا پردیش کے ساتھ انصاف رسانی کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے ۔۔