انجنیئرنگ کی تعلیم کے اداروں میں اضافہ سے معیار متاثر

منڈی۔15مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ملک میں انجنیئرنگ کی تعلیم کے اداروں کی تعداد میں اضافہ سے انجنیئرنگ کی تعلیم کا معیار متاثر ہورہا ہے ۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے اپنی تقریر میں آج یہ بات کہی ۔ ان کی تقریر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی منڈی کے دوسرے جلسہ تقسیم اسناد میں پڑھ کر سنائی گئی۔ پرنب مکرجی اس تقریب میں شرکت نہیں کرسکے کیونکہ ناخوشگوار موسم کی وجہ سے ان کا ہیلی کاپٹر منڈی نہیں پہنچ سکا ۔ اپنی تقریر میں پرنب مکرجی نے حالیہ سروے میں انکشافات پر تشویش ظاہر کی جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا ایک بھی اعلیٰ تعلیم کا ادارہ عالمی معیار کا نہیں ہے ۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ انجنیئرنگ کی تعلیم کی طلب میں روز بروز اضافہ کے نتیجہ میں کئی ٹیکنیکل ادارے قائم ہوگئے ہیں لیکن تعداد میں اضافہ کے باوجود اداروں کی تعلیم کا معیار اور دستیاب انفراسٹرکچر پسماندہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا تعلیمی معیار ترقی ماکوز کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دو ناموں بین الاقوامی سروے میں کئے ہوئے انکشافات چونکا دینے والے ہے ۔ سروے کے انکشافات میں ہندوستان کے ایک بھی ادارہ کو دنیا کے سرفہرست 200 اداروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ملک کے چند ہی ادارے ایسے ہیں جن کی کارکردگی بہتر ہے اور وہ زیادہ سرگرمی و منظم رویہ کے ذریعہ بلند تر مقام پر پہنچ سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کا مقام اور اُن کی ترقی کے تازہ مواقع صرف اونچے درجہ سے حاصل نہیں ہوسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلئے اساتذہ اور طلبہ کو بیرون ملک سے ہندوستان آنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیئے ۔

ٹکنالوجی کے نئے شعبوں کا آغاز ہونا چاہیئے ۔صدر جمہوریہ نے کہا کہ نئے قائم شدہ تعلیمی ادارے اپنا مقام حاصل کرنے کیلئے کچھ وقت لگے گا ‘ تاہم اس عمل میں آپ سب کو گہری دلچسپی لینی ہوگی اور صرف اونچا مقام حاصل کرنے کا مقصد ترک کر کے ہمہ جہتی تعلیمی ترقی پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ عظیم تر تحریک کی ضرورت ہے ‘ تاکہ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں تعلیمی اداروں میں نئی جان ڈالی جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ اُن تعلیمی اداروں کو ایک یا دو شعبوں کی شناخت کرنا چاہیئے جن میں وہ مہارت حاصل کرسکتے ہیں ۔ اساتذہ کا معیار اعلیٰ سطحی ہونا چاہیئے تاکہ طلبہ کو عالمی سطح کی تدریس حاصل ہوسکے ۔ تیز رفتار سے ہونے والی تبدیلیاں جو مختلف کورسیس میں ہورہی ہے

اساتذہ کو ان سب سے واقف ہونا چاہیئے اور اپنے موزوں سے متعلق تازہ ترین معلومات حاصل کرنی چاہیئے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ نئے آئی آئی ٹیز کو چاہیئے کہ وہ اپنی مہارتوں کو جلابخشیں‘ دیگر آئی آئی ٹیز کو چاہیئے کہ وہ قومی معلومات کے نٹ ورک سے استفادہ کریں جو تعلیمی اداروں کے باہمی تعاون کیلئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتاہے ۔ ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون ممکن ہے ۔ تعلیمی ادارے کوشش کرسکتے ہیں کہ بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے وفد کو فروغ دیتے ہوئے اپنا مقام بلند کریں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ آئی آئی ٹی منڈی نے 2011ء میں ٹی یو 9 کے ساتھ ایک معاہدہ مفاہمت پر دستخط کئے ہیں ۔ ٹی یو 9 صف اول کی ٹکنالوجی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے جو جرمنی میں قائم ہے ۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ ان باہمی روابط سے عالمی مہارت اساتذہ و طلبہ کو فراہم کی جانی چاہیئے اور اس سے اعظم ترین استفادہ کیا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ 200سرفہرست عالمی یونیورسٹیوں میں اپنا مقام بنانے کی کوشش کرناچاہیئے ۔

صدرجمہوریہ کا قدیم بگلا مکھی مندر کا دورہ
سپری۔15مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج نامور بگلامکھی مندر کا سخت حفاظتی انتظامات کے دوران دورہ کیا ۔ ان کے مقررہ پروگرام میںآئی آئی ٹی منڈی کے جلسہ تقسیم اسناد میں شرکت ناسازگار موسم کی وجہ سے ملتوی کردی گئی تھی ۔ صدر جمہوریہ ہماچل پردیش کے دورہ پر ہیں ۔انہوں نے آج اپنا دورہ بگلامکھی مندر پر حاضری دیتے ہوئے ختم کیا ۔ وہ ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعہ یہاںپہنچے تھے اور 20کلومیٹر دور بگلا مکھی مندر کو ریاستی پولیس کی سخت حفاظت کے درمیان بدریعہ کار پہنچے۔