حیدرآباد 17 جون (سیاست نیوز) اُردو کا مشاعرہ منفرد نوعیت کا ادارہ ہے۔ اُردو شاعری ہو کہ اُردو غزل اس کی ترقی و ترویج میں مشاعروں کا اہم حصہ رہا ہے۔ اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہوئے سامعین کے ذوق کی تربیت کا ذریعہ بنانا بھی منتظمین کا بڑا کارنامہ ہوتا ہے۔ آزادی کے بعد جب مشاعرے ایک نئی روح کے ساتھ ادب کے جسم میں داخل ہوئے تو بہت عرصہ تک شاعروں بالخصوص سرزمین حیدرآباد کے شعراء و شاعرات کو وہ مقام حاصل نہ ہوسکا جس کے وہ مستحق ہیں۔ اُردو سے تڑپ رکھنے والوں کی بھی دکن میں کمی نہیں۔ کوئی نہ کوئی تنظیم یا انجمن اپنے اپنے انداز سے اُردو زبان کی ترقی اور اس کی بقاء کے لئے اپنا وقت نکالتے ہوئے شائقین ادب کے ذوق کی تکمیل کررہی ہیں۔ اسی ماہ کی 21 جون کو شام 7 بجے ایک کل ہند مشاعرہ انجمن شعراء حیدرآباد دکن کی جانب سے منعقد کیا جارہا ہے۔ بزم کے روح رواں مسٹر عبداللہ بن علی بن محفوظ کی راست نگرانی، علامہ اعجاز فرخ، ابراہیم بن عبداللہ مسقطی سابق ایم ایل سی و سابق چیرمین اُردو اکیڈیمی کی سرپرستی میں مشاعرہ کی تیاریاں آخری مراحل میں ہے۔ اس مشاعرہ کی صدارت مدیر سیاست جناب زاہد علی خاں کریں گے جبکہ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے الحاج محمد سلیم ایم ایل سی، محمد سعادات احمد انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (SA) چیرمین انڈیا، محمد توفیق مشہور حیدرآبادی فلم ’’ایک تھا سردار‘‘ کے ہیرو، جناب ظفر جاوید، جناب ایس کے افضل الدین سابق نائب صدرنشین اُردو اکیڈیمی، جناب ایم اے شکور سرپرست اعلیٰ پنچشیل بی ایڈ ڈی ایڈ کالجس نرمل ہوں گے۔ اب تک جن شاعروں نے مشاعرہ میں شرکت کی توثیق کردی ان میں عمی احمدآبادی جو سرزمین حیدرآباد پر پہلی مرتبہ جلوہ افروز ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر ارشد منصور، انور ارمان اکبرآبادی، ڈاکٹر خالد نیر، ارچنا سنگھ چوہان چھتیس گڑھ، منفرد لب و لہجہ کے شاعر جناب عارف صیفی فریدآباد، ڈاکٹر نزہت مہدی بھوپال، عرفی علی ناد علیگڑھ، عزم شاکری اترپردیش، ضیاء قادری اجمیر شریف، مزید شعراء کرام کے جواب کا بزم کو انتظار ہے۔ ادب دوست حضرات کی شرکت کی معہ دوست احباب خواہش ہے۔ داخلہ مفت رہے گا۔ غیر یقینی موسم کی وجہ بزم نے مشاعرہ کا مقام گاندھی بھون میں رکھا ہے۔