انتخابی ضابطہ اخلاق کے سبب سرکاری محکمہ جات کی کارکردگی متاثر

تقاریب میں وزراء اور صدورنشین کی شرکت پر پابندی، اقلیتی ادارے بھی انتخابی ضابطہ اخلاق کی زد میں
حیدرآباد۔24 اپریل (سیاست نیوز) ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے سبب سرکاری محکمہ جات کی کارکردگی اور حکومت کی اسکیمات پر عمل آوری متاثر ہوئی ہے۔ تلنگانہ میں لوک سبھا کے عام انتخابات اور مجالس مقامی کے انتخابات کے پیش نظر دو ضابطہ اخلاق نافذ ہیں لوک سبھا انتخابات کا ضابطہ اخلاق 23 مئی تک نافذ رہے گا جبکہ مجالس مقامی کے انتخابات کا ضابطہ اخلاق 27 مئی تک برقرار رہے گا۔ ایسے میں سرکاری محکمہ جات اور اداروں کی کارکردگی عملاً ٹھپ ہوچکی ہے۔ ریاستی وزراء اپنے متعلقہ محکمہ جات کی کارکردگی کے سلسلہ میں جائزہ اجلاس طلب کرنے سے قاصر ہیں۔ محکمہ جات کی جانب سے تقاریب کے انعقاد کی صورت میں وزراء اور نامزد عہدوں پر فائز سیاسی قائدین شرکت سے گریز کررہے ہیں کیوں کہ ان کی شرکت انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔ ضروری پروگراموں کے سلسلہ میں عہدیداروں کو موجودگی کی ہدایت دیتے ہوئے وزراء ایسے پروگراموں سے دور دکھائی دے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کو سختی سے نافذ کیا ہے اور کسی بھی شکایت کے سلسلہ میں فوری نوٹس جاری کی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے رویہ کو دیکھتے ہوئے وزراء اور مختلف اداروں کے صدورنشین اپنے دفاتر تک محدود ہوچکے ہیں۔ اگرچہ وہ انفرادی طور پر روزمرہ کے معاملات میں زبانی ہدایات جاری کررہے ہیں لیکن تحریری طورپر کوئی ہدایت جاری کرنا ان کے اختیار میں نہیں۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کے سبب سرکاری اسکیمات بشمول فلاحی اسکیمات پر عمل آوری بھی متاثر ہوئی ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے محکمہ اقلیتی بہبود میں کام کاج عملاً ٹھپ ہوچکا ہے۔

کسی بھی معاملہ میں عہدیدار انتخابی ضابطہ اخلاق کا بہانہ بنارہے ہیں۔ ضابطہ اخلاق کے نتیجہ میں متعلقہ اداروں کے عہدیدار جوابدہی سے بالاتر ہوچکے ہیں۔ یہ سلسلہ آئندہ ماہ کی 27 تاریخ تک جاری رہے گا اور اندیشہ ہے کہ ان حالات میں فلاحی اسکیمات کے استفادہ کنندگان کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شادی مبارک اسکیم بھی انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت متاثر ہوئی ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن، اردو اکیڈیمی اور وقف بورڈ میں جاریہ اسکیمات پر عمل آوری کی نگرانی کے لیے مستقل عہدیراروں کی کمی نے ان اداروں کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔ رمضان المبارک کے آغاز کو تقریباً دو ہفتے سے کم کا وقت رہ چکا ہے لیکن ابھی تک انتظامات کے سلسلہ میں جائزہ اجلاس منعقد نہیں کیا گیا۔ وزیر اقلیتی بہبود انتخابی ضابطہ اخلاق کے سبب اجلاس طلب کرنے سے قاصر ہیں۔ عہدیدار اگر چاہیں تو وہ اپنے طور پر اجلاس منعقد کرسکتے ہیں۔ اسی دوران حج کمیٹی کے روایتی تربیتی کیمپس اور رباط کے لیے قرعہ اندازی میں سیاسی قائدین کی شرکت انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے کہا کہ سرکاری اداروں سے متعلق کوئی بھی سرگرمی میں وزراء اور سیاسی قائدین شریک نہیں ہوسکتے۔ حج کے تمام امور ریاستی حکومت سے متعلق ہیں۔ لہٰذا اس کی کسی بھی تقریب میں محض عہدیداروں کو شرکت کی اجازت رہے گی۔ واضح رہے کہ 4 مئی کو حج 2019ء کے عازمین کے لیے مکہ مکرمہ کے رباط میں قیام کے لیے قرعہ اندازی مقرر ہے۔