انتخابی سرگرمیاں ، عوام کے ہاتھ میں بھی نگرانی کے ہتھیار

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر قدغن لگانے الیکشن کمیشن کی خصوصی حکمت عملی
حیدرآباد۔9اکٹوبر(سیاست نیوز) انتخابات سے قبل جب انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ کردیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے انتخابی عہدیدار متعین کئے جاتے ہیں لیکن ا س کے باوجود سیاسی جماعتیں انتخابی سرگرمیوں کی انجام دہی کے دوران ان عہدیداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہوجاتے ہیںاور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے معاملات بہت کم ریکارڈ کئے جاتے ہیں لیکن اس مرتبہ ایسا کرنے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ الیکشن کمیشن نے نہ صرف اپنے عہدیداروں کو سیاسی جماعتوں کی نگرانی کی ذمہ داری تفویض کی ہے بلکہ عوام کے ہاتھ میں بھی تیسری آنکھ کا ہتھیار یعنی کیمروں کے ذریعہ تصاویر اور ویڈیو اپ لوڈ کرنے کی سہولت کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے جس کی وجہ سے اب الیکشن واچ ڈاگ کی ذمہ داری صرف عہدیداروں یا غیر سرکاری تنظیموں تک محدود نہیں رہی ہیں بلکہ یہ ذمہ داری عوام کو بھی دی گئی ہے اور انہیں اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جمہوریت کے تحفظ کیلئے اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کو آشکار کریں۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کے مطابق سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران صفائی اور گندگی سے پاک ماحول کو یقینی بنانے کے علاوہ انتخابی تشہیر کیلئے سرکاری املاک کے استعمال سے اجتناب کریں اس کے علاوہ کسی بھی انتخابی تشہیر کیلئے ریٹرننگ آفیسر اور ضلع الکٹورل آفیسر سے قبل از وقت اجازت حاصل کرلیں تاکہ ان کی جانب سے انجام دی جانے والی سرگرمیوں کا مکمل ریکارڈ رکھا جا سکے ۔عوام کو اس بات کا بھی اختیار حاصل ہے کہ اگر کسی انتخابی مہم سے انہیں تکلیف پہنچ رہی ہے تو وہ الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ آفیسر سے رابطہ قائم کرتے ہوئے شکایت درج کرواسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن و انتخابی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عوام اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے اگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے کی جانے والی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی شکایات درج کرواتے ہیں اور اس سلسلہ میں عوامی شعور اجاگر ہوتا ہے تو انتخابات میں حصہ لینے والے عہدیدار اور سیاسی جماعتیں انتخابی دھاندلیوں سے دور ہو سکتے ہیں کیونکہ انہیں عہدیداروں سے زیادہ عوامی شکایات کا خوف ہوگا کیونکہ ہر کسی کے پاس موبائیل اور کیمرہ موجودہونے کے سبب کوئی بھی شواہد کے ساتھ شکایات روانہ کرسکتے ہیں۔ جمہوریت کے تحفظ کیلئے عوام رائے دہی میں حصہ لینے کے علاوہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں تو ایسی صورت میں جمہوری استحکام ہونے کے قوی امکانات ہیں۔