ٹی آر ایس کی کامیابی طئے، آزادانہ رائے دہی کا دعویٰ
حیدرآباد۔/2فبروری، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے پرانے شہر میں انتخابی جھڑپوں اور تشدد کے واقعات کو افسوسناک قرار دیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر اور حکومت کے مشیر ڈی سرینواس نے کہا کہ رائے دہی مجموعی طور پر پُرامن رہی اور اختتامی مرحلہ میں پرانے شہر میں انتخابی جھڑپوں کے واقعات پیش آئے جو بدبختانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے آزادانہ اور منصفانہ رائے دہی کیلئے اقدامات کئے تھے جس کا اچھا اثر رہا۔ انہوں نے رائے دہی کے فیصد میں کمی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ زیادہ سے زیادہ رائے دہندوں میں شعور بیداری کے باوجود کوئی خاص اثر نہیں دیکھا گیا تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ بلدی انتخابات کے مقابلہ اس مرتبہ 5 فیصد زائد رائے دہی ہوئی ہے اور ان کے اندازہ کے مطابق مجموعی رائے دہی 50فیصد تک ہوئی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ انتخابی جھڑپوں کے واقعات پولنگ بوتھس کے پاس پیش نہیں آئے جس سے رائے دہی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہی کی تکمیل کے بعد جو ایکزٹ پولس منظر عام پر آئیں اُن میں ٹی آر ایس کو کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر انتخابات میں ٹی آر ایس کا غلبہ طئے ہوچکا ہے اور ٹی آر ایس واحد بڑی پارٹی کے طور پر اُبھرے گی۔ بیشتر انتخابی سروے ٹی آر ایس کو 70تا 75نشستوں پر کامیابی کی دلالت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کئے گئے انتظامات اطمینان بخش تھے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر میں مجلس کے کانگریس کے علاوہ ٹی آر ایس کارکنوں سے بھی جھڑپوں کے واقعات پیش آئے ہیں جو انتخابی گرمی میں معمول کے واقعات ہیں۔ انہوں نے رائے دہی میں حصہ لینے پر رائے دہندوں سے اظہار تشکرکیا۔ کے ٹی آر کا کہنا تھا کہ انتخابی سروے اگرچہ ٹی آر ایس کے حق میں ہیں تاہم قطعی نتیجہ کیلئے 5فبروری تک انتظار کرنا پڑیگا۔ ڈی سرینواس نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے متاثر ہوکر عوام نے پارٹی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ٹی آر ایس ہی حیدرآباد کی ترقی کو یقینی بناسکتی ہے۔ ڈی سرینواس نے انتخابی مہم میں حصہ لینے اور پارٹی کی کامیابی پر کے ٹی آر کو بطور خاص مبارکباد پیش کی۔