انتخابی تشہیر کے لیے سوشیل میڈیا پر گہری نظریں

خصوصی سیل کا قیام ، پوسٹنگس کا جائزہ ، ماہرین سے خدمات کا حصول
حیدرآباد۔10اکٹوبر(سیاست نیوز) انتخابی تشہیر کے لئے سوشل میڈیا کے بڑھتے رجحان کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے فیس بک‘ ٹوئیٹر اور واٹس اپ کے ذریعہ کی جانے والی انتخابی تشہیر پر گہری نظر رکھنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ اس سلسلہ میں چیف الکٹورل آفیسر تلنگانہ کی جانب سے ایک خصوصی سیل کا قیام عمل میں لانے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ کسی بھی سیاسی جماعت کی تائید یا کسی سیاسی جماعت کے خلاف چلائی جانے والی انتخابی مہم کے دوران سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹس کا جائزہ لیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹ سیاسی طرفداری اور مخالفت کے دوران امن و ضبط کے نقصان کا سبب نہ بننے پائے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر حیدرآباد میں سوشل میڈیا کے ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ان کے ذریعہ چلائی جانے والی مہم پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں اور ماہرین کو بھاری رقومات کی ادائیگی کے ذریعہ ان کی خدمات کے حصول کے معاملات سامنے آچکے ہیں لیکن اس مرتبہ ان پر گہری نظر رکھتے ہوئے کاروائی کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے فیس بک پیج‘ ٹوئیٹر اکاؤنٹ اور واٹس اپ گروپ کے علاوہ امیدواروں کے فیس بک پیج ‘ اکاؤنٹ‘ ٹوئیٹر اکاؤنٹ اور واٹس اپ گروپ کے علاوہ انسٹا گرام کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کی الیکشن کمیشن کی جانب سے ہدایت جاری کی جا رہی ہیں اور ان سے اس بات کی بھی وضاحت طلب کی جائے گی کہ فراہم کردہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے علاوہ اور کوئی اکاؤنٹ ان کی جانب سے چلایا جار ہاہے یا نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے واٹس اپ گروپس کے ایڈمین کی بھی تفصیلات حاصل کی جائیں گی اور جو واٹس اپ گروپ سیاسی جماعتوں کی جانب سے چلائے جا رہے ہیں ان کا ریٹرننگ آفیسر کے پاس اندراج کروایا جانا لازمی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ایسانہ کرتے ہوئے اگر سیاسی جماعتوں کے واٹس اپ گروپ یا امیدواروں کے واٹس اپ گروپ چلائے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ان کے خلاف کاروائی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ بتایاجاتاہے کہ سیاسی جماعتوں کے لئے سوشل میڈیا کی تشہیر کا کام انجام دینے والی ایجنسیوں کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کی سیاسی جماعتوں کو ہدایت دی جائے گی اور تشہیری ایجنسیوں سے بھی یہ تفصیلات حاصل کرنے کے اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کی جائیں گی۔