تشہیری ہتھیار ، نتائج سے بے فکری ، قائدین فائدہ اُٹھانے کوشاں
حیدرآباد۔ 16 مارچ (سیاست نیوز) مجوزہ عام انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے سوشیل میڈیا کے استعمال میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش ہونے لگی ہے۔ قومی سطح پر سیاسی جماعتوں کے علاوہ سیاسی قائدین سوشیل میڈیا کو بہترین تشہیری ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے یا نہیں اس کا اندازہ تو عام انتخابات 2014ء کے نتائج سے ہی لگایا جاسکتا ہے لیکن انتخابی مہم میں سوشیل میڈیا کلیدی کردار ادا کررہا ہے اور سیاسی قائدین سوشیل میڈیا کے بھرپور استعمال کے ذریعہ عوام تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ مقامی سطح پر بھی سوشیل میڈیا کے ذریعہ سیاسی قائدین رائے دہندوں تک رسائی حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ سیل فون میں انٹرنیٹ کی سہولت کے علاوہ فیس بُک، یو ٹیوب، ٹوئٹر کو حاصل ہورہی مقبولیت کا راست فائدہ سیاسی قائدین حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور قائدین کے علاوہ سیاسی جماعتوں سے وابستہ کارکن بھی اس انتخابی مہم کا بالواسطہ حصہ بن رہے ہیں تاکہ اپنے نظریات سے عوام کو واقف کرواسکیں یا پھر مخالفین کی جانب سے چلائے جانے والے منفی پروپگنڈہ کا جواب دیا جاسکے۔
فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب پر جن قائدین کو معقبولیت حاصل ہورہی ہے، ضروری نہیں کہ انہیں یہ مقبولیت ایوان تک پہنچائے لیکن اس مقبولیت کے اثرات بالواسطہ طور پر رائے دہندوں پر مرتب ہوں گے چونکہ جن قائدین کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔ ان کے چرچے عام ہوں گے تو ظاہر ہے کہ عام رائے دہندوں پر اس کا اثر ہوگا۔ بعض سیاسی جماعتوں نے اپنے سوشیل میڈیا اکاؤنٹ چلانے کیلئے باضابطہ اپنی پارٹیوں کے دفاتر میں تکنیکی عملہ کو متعین کرتے ہوئے شعبہ ترتیب دیا ہے جو پارٹی کے نظریات کے فروغ کے علاوہ پارٹی پر کی جانے والی تنقیدوں کا موثر جواب دینے کی کوشش میں ہے۔ کئی سیاسی قائدین سوشیل میڈیا کے ذریعہ عوام سے رابطہ کے علاوہ راست عوام تک پہنچنے میں بھی مصروف ہیں۔ 2014ء عام انتخابات میں تشہیر کے لئے سوشیل میڈیا بہترین ہتھیار ثابت ہونے لگا ہے۔ سیاسی قائدین کی عصری ٹیکنالوجی میں بڑھتی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے مختلف طریقوں سے امیدوار کی تشہیر کیلئے خدمات انجام دینے کی پیشکش کررہے ہیں اور سیاسی جماعتوں سے رابطہ استوار کرتے ہوئے پرکشش پیاکیجس دیئے جارہے ہیں۔ سوشیل میڈیا کے ذریعہ سیاسی جماعتیں اور امیدوار تعلیم یافتہ طبقہ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔