امیت شاہ کو سی بی آئی کی کلین چٹ

احمدآباد 7 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ناکافی ثبوتوں کا حوالہ دیتے ہوئے سی بی آئی نے آج نریندر مودی کے قریبی بااعتماد ساتھی اور سابق وزیرداخلہ گجرات امیت شاہ کو عشرت جہاں اور دیگر 3 افراد کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر مقدمہ میں بے قصور قرار دیا۔ خصوصی سی بی آئی عدالت میں سی بی آئی کے انسپکٹر وشواس کمار مینا نے ایک حلفنامہ داخل کرتے ہوئے کہاکہ امیت شاہ کے خلاف کافی ثبوت موجود نہیں ہیں، اِس لئے سی بی آئی اُنھیں بے قصور سمجھتی ہے۔ اُن کے خلاف فرد جرم پیش کرنے کے بعد سے اب تک سی بی آئی کافی ثبوت جمع کرنے سے قاصر رہی۔ سی بی آئی نے اُنھیں فرد جرم میں ملزم قرار دیا تھا۔

اعلیٰ ترین محکمہ سراغ رسانی نے گوپی ناتھ پلے کی درخواست خارج کردینے کی خواہش کی تھی۔ گوپی ناتھ پلے، جاوید شیخ عرف پرنیش پلے کے والد ہیں جو عشرت جہاں کے ساتھ ہلاک کئے جانے والوں میں شامل تھا۔ احمدآباد کے اُس وقت کے پولیس کمشنر کے آر کوشک اور اُس وقت کے وزیرداخلہ امیت شاہ کو اِس مقدمہ میں ملزم قرار دیا گیا تھا، پلے نے معطل آئی پی ایس عہدیدار اور عشرت جہاں مقدمہ کے ملزم ڈی جی ونزارا کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ ونزارا کبھی مودی سے بہت قریب سمجھے جاتے تھے، گزشتہ سپٹمبر میں اُنھوں نے آئی پی ایس کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا

اور ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ قید پولیس عہدیداروں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے جنھیں فرضی انکاؤنٹرس کا ملزم قرار دیا گیا ہے۔ اِس کے بعد اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ عہدیداروں نے صرف ریاستی حکومت کی پالیسی پر عمل آوری کی تھی۔ کئی افراد نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ جعلی انکاؤنٹر تھے جن میں سہراب الدین شیخ اور اُن کے ساتھی تلسی رام پرجاپتی کا انکاؤنٹر بھی شامل ہے۔ یہ انکاؤنٹر اُس وقت ہوا تھا جب کہ امیت شاہ ریاستی وزیرداخلہ تھے۔ دونوں مقدموں میں امیت شاہ کو ملزم قرار دیا گیا ہے اور وہ فی الحال ضمانت پر رہا ہیں۔ ونزارا نے اپنے مکتوب استعفیٰ میں امیت شاہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مودی پر ’’بدی‘‘ کا اثر و رسوخ ڈال رہے ہیں۔