امیت شاہ کا 10 اکٹوبر کو کریم نگر میں جلسہ عام

ڈاکٹر لکشمن نے انتظامات کا جائزہ لیا، انتخابات میں بی جے پی کے بہتر مظاہرے کی امید
حیدرآباد۔8 اکٹوبر (سیاست نیوز) بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ اسمبلی کے وسط مدتی انتخابات کے لیے مناسب وجوہات کا بیان نہ کرنا ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر رائو میں عدم تحفظ کے احساس کو ظاہر کرتا ہے۔ عوامی ناراضگی کے سبب کے سی آر کو شکست کا خوف لاحق ہوچکا ہے جس کے سبب انہوں نے وسط مدتی انتخابات کا فیصلہ کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ وسط مدتی انتخابات کے سبب نظم و نسق اور ترقی ٹھپ ہوچکی ہے۔ عام آدمی کو بہتر حکمرانی فراہم کرنے کے بجائے حکومت الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہوچکی ہے۔ انہوں نے عوامی تکالیف کی ذمہ داری کے سی آر پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں عوام مناسب سبق سکھائیں گے۔ ڈاکٹر لکشمن نے 10 اکٹوبر کو کریم نگر میں بی جے پی قومی صدر امیت شاہ کے جلسہ عام کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے پارٹی قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کیں۔ اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے بعد امیت شاہ کا یہ پہلا دورۂ تلنگانہ ہے۔ بی جے پی کو یقین ہے کہ اس مرتبہ امیت شاہ کی قیادت میں تلنگانہ میں پارٹی کا مظاہرہ بہتر رہے گا۔ ڈاکٹر لکشمن نے الزام عائد کیا کہ کانگریس زیر قیادت مہا کوٹمی دراصل تلنگانہ کے مخالفین پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو کے سبب تلنگانہ کے سینکڑوں نوجوانوں کو جان کی قربانی دینی پڑی۔ چندرا بابو نائیڈو نے آندھرا اور تلنگانہ کو اپنی دو آنکھ قرار دیا تھا اور اسی پالیسی کے نتیجہ میں نوجوانوں کو قربانی دینی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ برائے ووٹ مقدمہ میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کودنڈارام پر تنقید کی کہ وہ تلنگانہ کے غداروں کے ساتھ دوستی کررہے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہیں عوام سے وضاحت کرنی چاہئے۔ ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ پارٹی امیدواروں کے انتخاب کا کام جاری ہے اور بہت جلد انتخابی منشور کو قطعیت دے دی جائے گی۔ ڈاکٹر لکشمن نے دعوی کیا کہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا مظاہرہ کافی بہتر رہے گا۔