قومی مفاد کے مطابق کام کیا جائے گا ، روپئے میں ادائیگیوں سے تہران کا اتفاق، وزیر تیل پردھان کا بیان
نئی دہلی ۔ 8 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) وزیر تیل دھرمیندار پردھان نے آج کہاکہ تیل صاف کرنے والی دو سرکاری کمپنییاں نومبر میں ایران سے تیل درآمد کرنے کے احکام جاری کرچکے ہیں ۔ امریکہ نے نومبر سے ایرانی تیل کی خریدی پر پابندی عائد کیا ہے۔ پردھان نے کہا کہ ’’ایرانی تیل کی خریدی کیلئے ہماری دو کمپنیوں نے آرڈر دیدیاہے ‘‘ ۔ وزیر تیل نے جو یہاں توانائی فورم سے خطاب کررہے تھے کہاکہ ’’ہم نہیں جانتے کہ ہمیں اس ضمن میں (امریکی پابندیوں سے ) استثنیٰ ملتا ہے یا نہیں‘‘ ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پردھان نے ایران کے خلاف 4نومبر سے عائد ہونے والے امریکی امتناع کے بعد بھی ایرانی تیل کی خریدی سے متعلق ہندوستانی موقف کے بارے میں کچھ کہا ہے ۔ بعد ازاں انھوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان کی پنی توانائی ضروریات ہیں جن کی تکمیل کرنا ہوتا ہے ۔ پردھان نے کہاکہ ’’ہم اپنے قومی مفاد کے مطابق کام کریں گے ‘‘ ۔ انڈین آئیل کارپوریشن ( آئی او سی ) کے چیرمین سنجیوسنگھ نے کہاکہ ان کی کمپنی ان دو (کمپنیوں) میں شامل ہے جنھوں نے نومبر کیلئے (ایران کو ) آرڈر دیا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ’’ہم نے تیل کی معمول کی مقدار کے مطابق آرڈر دیا ہے‘‘ ۔ آئی او سی اور منگلور ریفائنری اینڈ پٹرو کیمکلس نے ایران سے 1.25 ملین ٹن خام تیل کیلئے مشترکہ آرڈر دیا ہے۔ سنجیوسنگھ نے کہاکہ ایرانی تیل کیلئے ادائیات کے راستوں پر تبادلہ خیال جاری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حتیٰ کہ امریکی پابندیوں کے عائد کئے جانے سے پہلے بھی ایران روپیوں میں ادائیات قبول کررہا تھا ۔ چنانچہ اب دیکھتے ہیں کہ کیا کیا جاتا ہے ‘‘۔ ہندوستان قدرے کم مقدار میں سہی ایران سے تیل کی درآمدات جاری رکھنا چاہتا ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے بھی گزشتہ ماہ کہا تھا کہ واشنگٹن ان پابندیوں سے چھوٹ و استثنیٰ پر غور کرسکتا ہے لیکن یہ بھی واضح کردیا تھا کہ بشرط منظوری یہ ایک مخصوص مدت تک محدود رہیں گے ۔ ہندوستان نے ایران سے 2017-18 میں درآمد کئے جانے والے 22.6 ملین ٹن خام تیل کے مقابلے 2018-19 ء میں 25 ملین ٹن خام تیل درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ ایرانی ایندھن 60 روزہ قرض کے سبب تیل صاف کرنے والے خریداروں کیلئے فائدہ بخش ہے ۔