امریکی مسلم طلبہ کے قتل میں نفرت کے پہلو کی تحقیقات

واشنگٹن۔ 12 فبروری۔(سیاست ڈاٹ کام) نارتھ کیرولینا کے ایک شخص کے ہاتھوں تین مسلم طلبہ کے قتل کی تحقیقات کرنے والی پولیس نے کہا ہے کہ وہ اس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ قتل نسلی تعصب کی اساس پر ہوئے ، جبکہ ہزاروں افراد نے جمع ہوکر ان ہلاکتوں کا سوگ منایا اور عدم رواداری کے جذبہ کی شدید مذمت کی ۔ 46 سالہ کریگ اسٹیفن ہگس پر اول درجہ کے قتل کے تین الزامات عائد کئے گئے ہیں جبکہ منگل کو یونیورسٹی ٹاؤن چیپل ہل میں فائرنگ پیش آئی جس کے نتیجہ میں تین افراد کی جان گئی ، جس پر بالخصوص دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ کی لہر پیدا ہوگئی ہے ۔ 23 سالہ ضیا برکت کو ان کی اہلیہ 21 سالہ یسر محمد اور خواہرِ نسبتی 19 سالہ رزان محمد کے ہمراہ چیپل ہل میں واقع ان کی رہائش گاہ پر منگل کو قتل کیا گیا تھا۔ان تینوں افراد کے سر میں گولیاں ماری گئی تھیں۔مقتول خواتین کے والد محمد ابوصالحہ نے اسے نفرت پر مبنی قتل کی واردات قرار دیا ہے تاہم ملزم کی اہلیہ کیرن ہکس نے کہا ہے کہ اس واقعے کی وجہ نفرت نہیں بلکہ پارکنگ کے مقام پر گاڑی کھڑی کرنے کے مسئلہ پر جھگڑا ہے ۔ محمد ابو صالحہ نے کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ان کی بیٹیوں اور داماد کو مذہبی منافرت کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میڈیا نے امریکی شہریوں پر بار بار اسلامی دہشت گردی کے لفظ کی یلغار کر کے انھیں ہم سے خوفزدہ کر دیا ہے، وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں اور ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘