امریکی سوئمنگ پُول سے مسلم بچوںاور انسٹرکٹر کا اخراج

واشنگٹن 15 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بعض مسلم بچوں اور اُن کے انسٹرکٹر کو ایک عوامی سوئمنگ پُول سے امریکہ کی ریاست ڈیلاویر میں خارج کردیا گیا کیوں کہ وہ روایتی سرپوش پہنے ہوئے تھے۔ اخبار کی ایک اطلاع کے بموجب تحسین اے اسماعیل ایک عوامی عربی انرچمنٹ پروگرام چلاتی ہیں، بیلاویر آن لائن نے کہاکہ وہ فاسٹر براؤن عوامی پُول ویلمنگٹن گزشتہ چار سال سے جاتی ہیں لیکن اِس بار اُنھیں ایک مسئلہ درپیش ہوا جو بچے شرٹ، نیکریں اور حجاب پُول میں پہنے ہوئے تھے اُنھیں اسماعیل کے بموجب پُول کے منیجر نے اطلاع دی کہ یہ شہر کی پالیسی کے خلاف ہے کہ عوامی پُولس میں سوتی کپڑے پہنے جائیں۔ اُنھوں نے کہاکہ قانون کے مطابق اِس پر کبھی عمل نہیں کیا گیا تھا لیکن دارالامانہ اکیڈیمی کے مالک اور پرنسپال گزشتہ پانچ سال سے اِس پُول کو جاتی رہی ہیں لیکن اُن کے خیال میں اُن کے ساتھ اور اُن کے بچوں کے ساتھ جو سلوک ہوا، یہ تعصب اور فرق و امتیاز کرنے کی مثال ہے۔ ساتھ ہی ساتھ دیگر بچے بھی سوتی لباس میں ملبوس تھے۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ میرے بچوں کے ساتھ مختلف سلوک کیوں کیا گیا۔ اسماعیل برقعہ پہنتی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ آخرکار اُنھیں مجبور ہوجانا پڑا جبکہ منیجر نے ایک پولیس عہدیدار کو جو پُول کے علاقہ کے قریب تھا، طلب کرلیا۔ میئر پیوریکی کے دفترکے ایک عہدیدار نے ابتداء میں کہاکہ سوتی کپڑے پہننا خطرہ ہیں کیوں کہ یہ بھیگ کر وزنی ہوجاتے ہیں اور پُول کے صفائی کے نظام پر بھی ان کا اثر پڑتا ہے۔ تاہم میئر پیوریکی نے کل ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر ہم مسلم عقیدے کے بچوں کو شہر کے پُول سے واپس چلے جانے کے لئے کہتے ہیں تو اِس کا مذہبی لباس سے کوئی تعلق نہیں ہے جو وہ پہنے ہوئے تھے۔ ہم جو کچھ ہوا اُس کی جوابدہی طلب کریں گے اور واقعہ کا تجزیہ کریں گے۔ میئر نے کہاکہ میں بچوں سے جنھیں شہر کی پُول سے خارج کردیا گیا ، معذرت چاہتا ہوں۔ اگر اِس کی وجہ مذہب سے متعلق لباس کا استعمال تھا جو وہ پہنے ہوئے تھے ۔