آکلینڈ۔ 20؍جولائی (سید مجیب کی رپورٹ)۔ فلسطین میں اسرائیلی جارحانہ فوجی کارروائی، بربریت اور بے قصور فلسطینی عوام کی نسل کشی کے خلاف ایک زبردست احتجاجی جلوس شہر آکلینڈ میں نکالا گیا، جو امریکی سفارت خانہ برائے نیوزیلینڈ کے روبرو جلسہ عام میں تبدیل ہوگیا۔ احتجاجی جلوس اور جلسہ عام میں شریک عوام کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ امریکی سفارت خانہ جانے والی شاہراہ کوئنس اسٹریٹ روڈ سے کسٹم روڈ تک سروں کا سمندر نظر آرہا تھا۔ جلوسی ’’اسرائیل بے گناہوں کا قتل عام بند کرے، فلسطین کو آزاد کرے اور یہ جنگ نہیں نسل کشی ہے‘‘ کے نعرے لگارہے تھے اور ان ہی نعروں پر مشتمل پلے کارڈس اُٹھائے ہوئے تھے۔ گرین پارٹی (بایاں بازو) کے نیوزی لینڈ کے رکن پارلیمنٹ کینیڈی اے گراہمس کی زیر قیادت اس احتجاجی جلوس میں مختلف مذاہب کے پیرو اور نیوزی لینڈ میں مقیم ہندوستان، پاکستان، فلسطین، مراقش اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد بِلالحاظ مذہب و ملت، رنگ و نسل اور وطنیت و قومیت شریک ہوکر عالمی اخوت اور انسانیت دوستی کا ثبوت دے رہے تھے۔ جلوس میں خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد شریک تھی۔ نیوزی لینڈ کے مسلمان بھی کثیر تعداد اور حالت ِ روزہ میں جلوس اور جلسہ میں شرکت کرکے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا ثبوت دے رہے تھے۔
دریں اثناء یہ افواہیں گرم ہوگئی تھیں کہ احتجاجی نیوزی لینڈ میں امریکی سفارت خانہ پر حملہ کرکے عمارت اور ارکان عملہ کو نقصان پہنچائیں گے۔ چنانچہ پولیس نے سخت چوکسی اختیار کر رکھی تھی۔ جلوس کی گزرگاہ پر پولیس کی بھاری جمعیت تعینات تھی اور امریکی سفارت خانہ کی حفاظت کے لئے بھی پولیس تعینات کی گئی تھی۔ احتجاجی اے او سی ای اے چوک میں جمع ہوکر روزنامہ ’ہیرالڈ‘ اور ٹی وی چینل این زیڈ کے دفاتر کے سامنے سے گزرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ پہنچے جہاں جلسہ عام منعقد کیا گیا، جس میں بائیں بازو کی گرین پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کینیڈی اے گراہمس کے علاوہ دیگر 13 قائدین نے بشمول مقامی علمائے دِین پیش اِمام مسجد عمر محمد پٹیل (گجراتی) مولانا نبی شاہ، پاکستان کے محمد توقیر خان، ڈاکٹر ایم ایم بیگ تیموری، مائیک ٹرین، روجر سولیر، فلسطین کی نینا الامالہ مقیم نیوزی لینڈ، محترمہ نادیہ فلسطین نے مخاطب کیا۔ فیڈریشن آف اِسلامک اسوسی ایشنس نیوزی لینڈ کے صدر ڈاکٹر انور غنی نے بھی فلسطین پر اسرائیلی بربریت کا مذمتی صحافتی بیان ویلنگٹن سے جاری کیا۔ گلوبل پیس اینڈ جسٹس کے زیر اہتمام اس احتجاجی جلوس اور جلسہ عام سے مختلف طبقات کے ترجمانوں نے خطاب کرتے ہوئے آزادی کو فلسطینیوں کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے ان کے حقوق کو سلب کرنے والی اسرائیلی جارحیت کی پُرزور مذمت کی گئی۔
اقوام متحدہ سے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے بے گناہوں کا قتل عام روک دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ یوروپی یونین اور اقوام متحدہ سے اسرائیل کی وحشیانہ فضائی بمباری کا نوٹ لیتے ہوئے پوری دُنیا کو وحشیانہ بمباری میں خواتین اور بچوں کے بشمول بے گناہ فلسطینی عوام کی نسل کشی کے خلاف عالمی اقدام کرنے پر زور دیا گیا۔ دُنیا بھر میں انسانی حقوق کے خود ساختہ علمبردار امریکہ کی اسرائیلی بربریت سے چشم پوشی پر اظہار حیرت کیا گیا اور بی بی سی اور سی این این خبر رساں چیانلس پر جانبداری کا الزام عائد کیا گیا۔ علمائے دِین نے اپنے خطاب میں کہا کہ قبلۂ اوّل بیت المقدس کو اسرائیل کے ناجائز قبضہ سے آزادی دلوانا نہ صرف مسلمانانِ عالم کا دِینی فریضہ ہے بلکہ دُنیا بھر کے انسانیت دوستوں کا بھی اوّلین فرض ہے۔ دو گھنٹے طویل یہ احتجاجی جلوس اور جلسہ عام امریکی سفارت خانہ برائے نیوزی لینڈ پر پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔