امریکی دفاعی بجٹ اور گوانتانامو بے کے قیدیوں کا مستقبل

واشنگٹن ، 27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر براک اوباما نے دفاعی بجٹ سے متعلق مسودہ قانون پر دستخط کردیئے ہیں۔ اس دفاعی بل میں گوانتانامو بے کے حراستی مرکز کی بندش کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔ بجٹ پر کل دستخط کے بعد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ہوائی میں چھٹیوں پر قیام پذیر صدر اوباما نے دفاعی بل کی تعریف میں کہا کہ نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کے تحت گوانتانامو بے کے حراستی مرکز سے قیدیوں کا انخلا جلد ممکن ہو سکے گا۔ انھوں نے کہا،

’’مجھے خوشی ہے کہ یہ قانون انتظامیہ کو زیادہ لچک فراہم کرتا ہے، تاکہ وہ گوانتانامو کے قیدیوں کو دیگر ممالک منتقل کر پائیں اور کانگریس کے ساتھ بات چیت کی جا سکے، جس سے اس بدنام زمانہ حراستی مرکز کی بندش ممکن ہو سکے گی‘‘۔ فرانسیسی خبر رساں ادارہ ’اے ایف پی‘ کے مطابق صدر اوباما کی مخالفت کے باوجود اس قانون میں گوانتانامو بے کے قیدیوں کی امریکہ منتقلی پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ صدر اوباما نے مزید کہا، ’’اس حراستی مرکز کے کام کرتے رہنے سے ہمارے وسائل کا ضیاع، ہمارے اہم اتحادیوں سے ہمارے تعلقات میں خرابی اور انتہاپسندوں کی جانب سے تشدد میں اضافے جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں‘‘۔

صدر اوباما نے بہ زور کہا کہ کانگریس نے گوانتانامو بے کے قیدیوں کی امریکہ منتقلی پر پابندی عائد کر دی ہے، حالانکہ انہیں وفاقی عدالتوں میں پیش کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ امریکی قانون سازوں کو اس حراستی مرکز کی بندش کے سلسلے میں مزید کام کرنا چاہئے۔ ’’انتظامیہ کو یہ اختیار ہونا چاہئے کہ وہ یہ طے کرے کہ گوانتانامو بے کے قیدیوں کو کب اور کہاں کسی عدالت میں پیش کیا جانا چاہئے۔‘‘ گوانتنامو بے کی قید میں اِس وقت مختلف ممالک کے 158 قیدی موجود ہیں۔ امریکہ نے قانون سازی سے قبل دو، دو قیدی سوڈان، سعودی عرب اور الجزائر منتقل کئے تھے۔ اس دفاعی بجٹ میں فوجی اخراجات کی مد میں 552.1 بلین ڈالر رکھے گئے ہیں جب کہ افغانستان سمیت بیرون ممالک جاری فوجی سرگرمیاں پر 80.5 بلین ڈالر کا سرمایہ رکھا گیا ہے۔ اس بل کے تحت امریکی فوجیوں کی تنخواہ میں ایک فیصد اضافے کے ساتھ ساتھ پنٹگان کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ فوج میں جنسی حملوں جیسے مسئلے کے خاتمے کیلئے اصلاحات کرے۔