لاس اینجلس ، 11 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سکیورٹی کے ’فول پروف‘ انتظامات بھی امریکی حکمرانوں کو اکثر عوام کے غیض و غضب سے بچانے میں ناکام رہتے ہیں۔ سابق صدر جارج بش کے بعد اب سابق وزیر خارجہ ہلاری کلنٹن پر بھی جمعرات کی شام تقریب میں ایک خاتون نے جوتا اچھال دیا۔ دونوں واقعات میں فرق یہ ہے کہ صدر بش کی طرف جوتا پھینکنے کا واقعہ عراق میں ہوا تھا جبکہ ہلاری پر اُن کے اپنے ملک میں جوتے سے حملے کی ناکام کوشش کی گئی۔ تاہم دونوں کی قدر مشترک یہ کہ دونوں قائدین نے اس پر مزاحیہ پیرائے میں رد عمل ظاہر کیا۔ خبر رساں ادارہ روئٹرز نے امریکی خفیہ سرویس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ یہ جوتا اسٹیج پر موجود سابق صدر بل کلنٹن کی اہلیہ کی طرف پھینکا گیا لیکن وہ دور ہونے کی وجہ سے یکدم ایک طرف ہو کر اس جوتے کا نشانہ بننے سے بچ گئیں جس کے بعد انھوں نے اپنی تقریر جاری رکھی۔ ترجمان کے مطابق جوتا پھینکنے والی خاتون منڈالے بے ہوٹل میں منعقدہ تقریب کیلئے باقاعدہ طور پر مدعو مہمانوں میں شامل نہیں تھی۔
’’اس خاتون کو خفیہ سرویس کے اہلکاروں اور ہوٹل کے سکیورٹی گارڈز نے دیکھ لیا تھا، اور جیسے ہی وہ اس کے قریب پہنچے، اس خاتون نے 66 سالہ ہلاری کو نشانہ بنانے کیلئے ایک جوتا دے مارا، جس پر اس خاتون کو فوری حراست میں لے لیا گیا۔‘‘ ہلاری لاس ویگاس میں ’’فضلے کی ری سائیکلنگ انڈسٹری‘‘ کے زیراہتمام تقریب میں شرکت کیلئے پہنچی تھیں۔ خاتون کا پھینکا گیا جوتا ہلاری کو نہیں لگا بلکہ اُن کے سر سے چند سنٹی میٹر کے فاصلے سے گزرا۔ تاہم انھوں نے اس پر کسی برہمی کا اظہار کرنے کے بجائے اسے مزاحیہ پیرائے میں ٹال دیا۔ ’’میرے خدا! مجھے یہ علم نہیں تھا کہ ٹھوس کوڑے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کا موضوع اتنا متنازعہ ہے۔ میرا خیال نہیں تھا کہ کانفرنس کے منتظمین اپنے مہمانوں کا ایسے بھی استقبال کرتے ہیں‘‘۔ اس پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ جوتا دیکھ کر بھی ہلاری نے تجاہل عارفانہ سے کام لیا اور کہا کہ پتہ نہیں کسی نے میری طرف کوئی چیز پھینکی ہے۔