من پسند امیدوار کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے، الیکس ہالڈرمین کا بوسٹن ٹکنالوجی کانفرنس میں خطاب
حیدرآباد۔8اکٹوبر(سیاست نیوز) امریکی الکٹرانک ووٹنگ مشین میں بہ آسانی نتائج کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اور نتائج کو الٹ پھیر کرتے ہوئے اپنے من پسند امیدوار کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے ۔امریکی سائنسداں الیکس ہالڈرمین نے بوسٹن ٹیکنالوجی کانفرنس کے دوران اس کا عملی مظاہرہ کیا اور بتایا کہ کس طرح سے الکٹرانک ووٹنگ مشین میں ڈالے جانے والے ووٹوں کو دوسرے امیدواروں کے حق میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ عملی مظاہرہ کے دوران تمثیلی رائے دہی میں الیکس ہالڈر مین نے 3ووٹ ڈلوائے جو کہ کانفرنس کے شرکاء نے جارج واشنگٹن کے حق میں استعمال کئے لیکن مشین پر موجود ایک اور امیدوار بینیڈکٹ آرنالڈ جو کہ امریکی فوجی تھا اور جنگ کے دوران راز کے افشاں کا مجرم قرار دیا گیا تھا اسے دوسرے امیدوار کی حیثیت سے رکھا گیا تھا اور جب نتائج کا مشاہدہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ بینیڈکٹ آرنالڈ نے 2ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرلی جبکہ جو 3ووٹ استعمال کئے گئے تھے وہ تین کے تین ووٹ جارج واشنگٹن کے حق میں استعمال کئے گئے تھے۔ الیکس ہالڈرمین نے عملی مشاہدہ کے دوران بتایا کہ ووٹنگ مشین کوہاتھ لگائے بغیر اس کے نتائج میں تبدیلی کس طرح ممکن ہے۔امریکہ کی 20 ریاستو ںمیں جہاں اب بھی الکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال کی جاتی ہے ان مشینوں کے استعمال پر سنجیدہ شہریوں کو اب بھی خدشات ہیں اور یونیورسٹی آف میشیگن کے پروفیسر کا کہناہے کہ الکٹرنک ووٹنگ مشینوں کے نتائج میں جس انداز میں تبدیل کئے جاسکتے ہیں اسے دیکھنے کے بعد ان کی نیندیں اڑ گئی ہیں کیونکہ یہ جمہوری نظام کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے جس کے ذریعہ عوامی رائے کو الکٹرانک طریقہ سے تبدیل کیا جا رہاہے اور ان لوگوں کو مسلط کیا جا رہاہے جن کے خلاف عوام کی اکثریت ہے۔ امریکہ میں ہونے والے بعض مقامات کے وسط مدتی انتخابات کے دوران الکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے سلسلہ میں خود سیکیوریٹی ایجنسیاں اس بات کا اعتراف کر رہی ہیں کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینو ںمیں مداخلت کی گنجائش ہے اور ان مشینوں میں موجود عوامی رائے کی سیکیوریٹی کو خطرات درپیش ہیں۔انٹلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے امریکی انتخابات میں روسی ایجنسیوں کی مداخلت کاری کے سلسلہ میں انکشاف کے بعد اس بات پر مباحث میں اضافہ ہوچکا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ امریکی الکٹرانک ووٹنگ مشین محفوظ نہیں ہیں۔ ماہ ستمبر کے دوران امریکہ کی نیشنل اکیڈمی آف سائنس نے سال 2018 کے دوران ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے علاوہ 2020میں ہونے والے انتخابات کا انعقاد بیالٹ پیپر پر کروایا جائے اور کہا کہ جب تک بیالٹ پیپر کے استعمال کو یقینی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک شفاف انتخابات کو ممکن بنانے کا دعوی کیا جانا درست نہیں ہوگا کیونکہ الکٹرانک آلات میں تبدیلی ممکن ہے اور جس میں چپ ہو اس کے نتائج کو یقینی بنا سکتے ہیں۔امریکی ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کی نگرانی ریاستی الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کے علاوہ ادارہ جات مقامی اداروں کے عہدیدار کرتے ہیں حالیہ دنوں میں جارجیہ کی عدالت نے ووٹنگ مشینوں کی تبدیلی کے مطالبہ کے ساتھ داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ مشینوں کی تبدیلی کی درخواست تاخیر کے سبب قبول نہیں کی جاسکتی لیکن ساتھ ہی شہریوں کے دستوری حقوق کی پامالی پر سخت کاروائی کا انتباہ دیا۔ بتایاجاتاہے کہ Defcon کانفرنس کے دوران سائنسدانوں نے بتایا کہ اندرون 2 منٹ 18ریاستوںکے ووٹنگ مشینوں کو ریموٹ کنٹرول سسٹم کے ذریعہ قابو میں کیا جاسکتا ہے۔مسٹر جوزف ہال جو کہ سنٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی میں الیکشن سیکیوریٹی ریسرچ ٹیم کے نگران ہیں نے بتایا کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو قابو میں کرنے کے طریقہ کار کو دیکھنے کے بعد اب ان کی ٹیم کئی خدشات کا شکار ہوئی ہے اور کہا جار ہاہے کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بعد اب انتخابی نظام کو بھی نشانہ بنایاجاسکتا ہے اور ان خدشات میں بتدریج اضافہ ہی ہوتا جا رہاہے ۔امریکی نیشنل اسوسیشن آف سیکریٹریز آف اسٹیٹ کے عہدیداروں کا کہناہے کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں دھاندلی کی گنجائش کا جو مشاہدہ کروایا جا رہاہے وہ حقیقی دنیا پر اثرانداز نہیں ہو رہاہے لیکن عوامی تنظیموں کے علاوہ دیگر غیر سرکاری تنظیموں اور عہدیداروں نے اس بات کو تسلیم کرنا شروع کردیا ہے کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں پائی جانے والی اس خامی کے بعد شہریوں بالخصوص رائے دہندوں میں تشویش کی لہر پیدا ہوچکی ہے ۔سائنسدانوں و ماہرین کے ادعا اور عملی مشاہدہ کے بعد سیاسی امور پر مہارت رکھنے والوں کا کہناہے کہ امریکہ میں معمولی واقعات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور یہ مسئلہ جمہوریت کی بقاء سے مربوط ہے اسی لئے یہ سمجھنا کہ ان واقعات اور سائبر سیکیوریٹی کانفرنس و دیگر کانفرنسوں میں الکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعہ ڈالے گئے ووٹ کی تبدیلی ممکن ہونے کو ثابت کئے جانے کے بعد عوامی ردعمل ظاہر نہیں ہوگا غلط ہے۔