واشنگٹن۔15 اکٹوبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی صدر براک اوباما نے شام کے سرحدی شہر کوبانی کی صورتحال کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ کی قیادت میں اتحاد اس شہر اور عراق کے مغربی علاقے میں دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے گا۔انھوں نے یہ بات گزشتہ شب داعش کے خلاف جنگ میں 20 سے زیادہ اتحادی ممالک سے تعلق رکھنے والے کمانڈروں کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکی حکومت کوبانی کے علاوہ عراق کے مغربی صوبے الانبار میں بھی لڑائی پر توجہ مرکوز کررہی ہے اور ان دونوں علاقوں پر فضائی حملے جاری رہیں گے۔صدر اوباما نے دعویٰ کیا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف جنگی مہم میں بعض اہم کامیابیاں ملی ہیں۔
انھوں نے اس ضمن میں عراق میں موصل ڈیم سے داعش کا قبضہ چھڑانے کا حوالہ دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اتحاد کے فوجی سربراہان اس بات پر متفق ہیں کہ داعش کے خلاف یہ جنگی مہم طویل المیعاد ہوسکتی ہے۔اس کے دوران ناکامیاں اور کامیابیاں دونوں ہوں گی لیکن ہم اپنے مقاصد میں متحد ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ داعش کی جانب راغب ہونے والوں کو روکنے کیلئے ایک متبادل ویژن کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ دریں اثناء امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ روس اور امریکہ نے داعش کے خلاف جنگ میں انٹلیجنس کے تبادلے سے اتفاق کیا ہے۔ کیری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ انھوں نے پیرس میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات میں داعش سے متعلق سراغرسانی بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے اور لاروف کا کہنا تھا کہ اس وقت روس سے تعلق رکھنے والے پانچ سو جنگجو داعش میں شامل ہوکر عراق اور شام میں لڑرہے ہیں۔
قبل ازیں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ کی داعش کے خلاف اختیار کردہ حکمتِ عملی کامیاب جا رہی ہے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اس حکمتِ عملی پر عمل درآمد کے ابتدائی ایام میں ہیں۔ابتدائی شواہد سے عیاں ہے کہ یہ کامیاب جارہی ہے‘‘۔ ترجمان کے بقول اب تک ایسے مراحل بھی آئے ہیں کہ فوجی قوت کے استعمال سے داعش کی پیش قدمی کو روک دیا گیا ہے یا اس کو انسانی اہداف کے محاصرے سے روکا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ اس جنگ کا فوری خاتمہ ممکن نہیں ہوگا اور یہ آسان بھی نہیں ہے۔ ایرنسٹ نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ داعش کے خلاف جنگ کیلئے امریکہ کی زمینی فوج نہیں بھیجی جائے گی بلکہ عراقی سکیورٹی فورسز کی صلاحیت کار میں اضافہ کیا جائے گا اور شام میں داعش کے خلاف جنگ کیلئے اپوزیشن کے جنگجوؤں کی صلاحیت بڑھائی جائے گی۔