استنبول۔16نومبر ( سیاست ڈاٹ کام) صدر ترکی رجب طیب اردغان نے کہا کہ امریکہ کو 12ویں صدی میں مسلمانوں نے دریافت کیا تھا۔ کرسٹوفر کولمبس نے امریکہ کو دریافت نہیں کیا ‘یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے امریکہ کا پتہ چلایا تھا ۔
کرسٹوفر نے تین صدیوں بعد امریکہ میں قدم رکھا تھا ۔ لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے مسلم قائدین کی استنبول چوٹی کانفرنس کے دوران اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں صدر ترکی رجب طیب اردغان نے کہا کہ لاطینی امریکہ اور اسلام کے درمیان 12ویں صدی سے قبل سے ہی روابط رہے ہیں ۔ مسلمانوں نے امریکہ کو 1178ء میں دریافت کیا تھا ۔ کرسٹوفر کولمبس نے نہیں ۔ مسلم ملاح 1178ء سے امریکہ پہنچ رہے ہیں ۔ کولمبس نے کیوبائی ساحل پر واقع ایک پہاڑی پر مسجد کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی۔ رجب اردغان نے کہا کہ انقرہ کولمبس کی نشاندہی کردہ جگہ پر مسجد تعمیر کرنے کیلئے تیار ہے۔ میں اس تعلق سے اپنے کیوبائی برادران سے بات کروں گا ۔ اب اس پہاڑی پر ایک شاندار مسجد تعمیر کی جائے گی ۔ تاریخ کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ کولمبس نے سرزمین امریکہ پر 1492ء میں قدم رکھا تھا ‘ کیونکہ وہ ہندوستان جانے کیلئے ایک نئی بحری راہ تلاش کررہا تھا ۔ حال ہی میں مفکرین اسلام کے ایک چھوٹے سے گروپ نے امریکہ میں پہلے سے ہی مسلمانوں کی موجودگی کا پتہ چلایا ہے ۔
اگرچیکہ ماقبل کولمبیائی حکومت میں کوئی اسلامی نشانی نہیں پائی گئی ہے ۔ 1996ء میں شاید ایک متنازعہ مضمون میں تاریخ داں یوسف مروہی نے ایک ڈائری کے حوالے سے جو کولمبس نے لکھی تھی بتایا کہ کیوبا میں ایک مسجد واقع ہے ۔ کولمبس نے اپنی ڈائری مورخہ 21اکٹوبر 1492ء بروز پیر میں یہ اعتراف کیا ہے کہ اس نے خوبصورت پہاڑی کی چوٹی پر ایک مسجد دیکھی ہے ‘ لیکن مفکرین اسلام کا کہنا ہے کہ یہاں پر اسلامی اسٹرکچر کے کوئی آثار نہیں پائے گئے ہیں۔تاریخ داں مروہی نے مغربی افریقہ میں مسلم بادشاہوں کے قاصدوں نے بھی کینرے جزائر سے اٹلانٹک کا سفر کیا تھا ۔ اسپین کے مسلمانوں نے بھی دسویں صدی کا نقشہ پیش کیا جس میں عرب ملاحوں نے بھی اپنے سفر کے دورانکئیمقامات دریافت کئے ہیں ۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے ساری دنیا میں مسلمانوں کی موجودگی کے حوالے سے یہ بات پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلمان کائنات میں روز اول سے ہی آباد اور سرگرم ہیں ۔