واشنگٹن ۔17جون ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ چھ ہفتوں میں امریکی سرحد پر تقریباً 2000 مہاجر بچوں کو ان کے گھر والوں سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔اس معاملے پر امریکہ میں سخت سیاسی نقطہ چینی جاری ہے۔ انٹرنیٹ پر آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غیر قانونی مہاجرین کے بچوں کو پنجروں میں رکھا جا رہا ہے۔ٹرمپ انتظانیہ کا یہ کریک ڈاؤن امریکہ کی طویل المدتی پالیسی میں تبدیلی ہے جس کے تحت پہلی مرتبہ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے آنے والوں کو مجرمانہ سزاؤں کا سامنا ہے جو پہلے صرف ایک چھوٹا سا جرم تصور کیا جاتا تھا۔امریکی محکمہِ داخلی سلامتی کے مطابق 19 اپریل سے 31 مئی تک 1995 بچوں کو 1940 افراد سے علیحدہ کیا جا چکا ہے۔ان بچوں کی عمروں کے بارے میں معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ان بچوں کو امریکی محکمہِ صحت اورانسانی خدمات کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انھیں یا تو حکومتی حراستی مراکز میں رکھا جائے گا یا پھر انھیں کسی گود لینے کے حوالے کیا جائے گا۔اقوام متحدہ نے امریکہ سے فوری طور پر بچوں کو ان کی فیملیوں سے علیحدہ کرنے کے عمل کو روکنے کا مطالبہ کیاہے۔ اٹارنی جنرل جیف سیشنز کا کہنا ہے کہ بچوں کو ساتھ لانے سے کوئی بھی غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے جرم کی سزا سے بچ نہیں سکتا۔انہوںنے سینٹ پالز کے رومی قوم کو لکھے ایک خط کا حوالہ دیا ہے جس میں حکومت کے قوانین کی اطاعت کی تائید کی گئی ہے۔ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ خط غلامی کے نظام کو بچانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔
ملک میں سیاسی ردِعمل کیا ہے؟ ٹرمپ انتظامیہ کو کچھ ریپلکنز کی حمایت حاصل ہے تاہم کچھ سیاسی عناصر نے تشویس کا اظہار کیا تھا۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ہاؤس سپیکر پال رائن کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے استعمال کیے گئے حربے ان کے خیال میں درست نہیں۔