امریکہ نے شام کی فضائی نگرانی شروع کر دی، کارروائیوں کی راہ ہموار

واشنگٹن۔ 26 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ نے شام کی فضائی نگرانی شروع کر دی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نگرانی کا آغاز صدر اوباما کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔ شام کی فضائی نگرانی کے بعد شام میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لئے کارروائیوں کی راہ ہموار ہو سکے گی۔واضح رہے ایک روز قبل وائٹ ہاوس کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اوباما نے شام میں فوجی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی ہے۔ اس اجازت سے پہلے اوباما کو حساس اداروں کی طرف سے اضافی اطلاعات کی فراہمی ضروری ہو گی۔ان دنوں پنٹگان میں صدر اوباما کے لئے اس حوالے سے امکانی مواقع پر مبنی بریفنگ کی تیاری کی جارہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان امکانی مواقع میں شام میں کارروائیوں کے مواقع بھی شامل ہے۔

حکام کے مطابق اوباما انتظامیہ شام کے بارے میں قابل بھروسہ حساس معلومات چاہتی ہے جن کی بنیاد پر بہتر فیصلہ ممکن ہو سکے۔امریکہ نے داعش کے خلاف اپنی کارروائیوں کا آغاز عراق سے کیا ہے اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تین ہفتوں سے داعش کے ٹھکانے امریکی زد میں ہیں۔ اوباما نے یہ حکم عراق میں امریکی حکام کو درپیش خطرے کے پیش نظر دیا تھا۔پینٹگان کے حکام کا موقف ہے کہ دہشت گردی سے نجات کا ایک ہی طریقہ ہے کہ عراق کے پڑوسی ملک شام میں بھی داعش کے اہداف کو نشانہ بنا کر ان کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے۔ تاہم اوباما نے تین سال سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں اب تک کارروائی کی سخت مزاحمت کی ہے۔اب امریکی صحافی جیمز فولی کی ہلاکت کے بعد صدر اوباما کے موقف میں تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ فولی کو داعش نے یرغمال بنایا تھا

اور ابھی چار مزید امریکیوں کو اسی انداز سے ہلاک کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔وائٹ ہاوس کے ترجمان جاش ارنیسٹ نے کل شام بتایا صدر نے امریکی شہریوں کے تحفظ کے بعد شام کیلئے امریکی فوج کو بروئے کار لانے کا مضبوط اشارہ دیدیا ہے۔ترجمان نے مزید کہا ’’ یہ درست ہے کہ بین الاقوامی سرحدوں کے باوجود‘‘ تاہم اوباما کی طرف سے شامی نگرانی کے معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔وائٹ ہاوس نے کہا ’’ ہم حساس اداروں کی سرگرمیوں اور فوج کے آپریشنل معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے تاہم جیسا ہم نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے تدارک کے لئے ہر طریقہ بروئے کر لاتے ہیں‘‘۔وائٹ ہاوس کے قومی سلامتی سے متعلق ترجمان کیٹلین ہیڈن نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے تازہ فیصلے پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔