واشنگٹن ، 21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر براک اوباما نے آج کانگریس کو نظرانداز کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا اعلان کردیا تاکہ امریکہ کے ’’شکستہ‘‘ ایمگریشن سسٹم کو درست کیا جاسکے، جس سے 5 ملین غیرقانونی ورکرس ملک بدر ہونے سے بچ جائیں گے، اور یہ اقدام گرین کارڈ کے خواہشمند ہزاروں ہندوستانی پروفیشنلس کو بھی فائدہ پہنچا جاسکتا ہے۔ ’’آج ہمارا ایمگریشن سسٹم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور ہر کوئی یہ بات جانتا ہے،‘‘ اوباما نے اس کے ساتھ مزید کہا، ’’یہ صورتحال کئی دہوں سے جاری ہے اور برسہا برس سے ہم نے اس تعلق سے کچھ خاص نہیں کیا ہے۔‘‘ انھوں نے قدامت پسندوں کے ایسے الزامات مسترد کردیئے کہ وہ غیرقانونی تارکین وطن کیلئے ’فری پاس‘ کی پیشکش کررہے ہیں اور نشریات کے اہم اوقات میں کئے گئے خطاب میں متنبہ کیا کہ وہ بارڈر سکیورٹی کو سخت بنائیں گے اور اسے غیرمجاز بیرونی لوگوں کیلئے سخت تر بنا دیں گے کہ ملک میں داخل نہ ہوپائیں۔ یہ عاملانہ کارروائی جو کسی امریکی صدر کی طرف سے ایمگریشن کے معاملے میں بہت بڑا اقدام بتایا جارہا ہے، توقع ہے قابل لحاظ تعداد میں ہندوستانی پروفیشنلس کی مدد کرے گی جنھیں موجودہ طور پر H-1B ویزوں کے تکلیف دہ اور پریشان کن ضابطے سے گزرنا پڑتا ہے
تاکہ لیگل پرمننٹ اسٹیٹس حاصل کرسکیں، جو گرین کارڈ کے طور پر مقبول ہے۔ اوباما نے اپنے یکطرفہ اقدام کو ’’بہتر فہم ، درمیانہ طریقۂ کار‘‘ قرار دیا جو بالعموم پابند قانون ایمگرنٹس کو روپوشی سے نکل کر قانون سے اپنا حق حاصل کرنے کا موقع دے گا۔ انھوں نے ٹی وی پر خطاب میںایمگریشن سے متعلق منصوبے کی جزئیات کا اعلان کیا، جس کے تحت ایسے امریکی شہریوں کے والدین اور بیویوں کو بھی تحفظ حاصل ہو سکے گا۔ ’’میں جو بیان کر رہا ہوں وہ احتساب ہے، ایک درمیانی راستہ۔ اگر آپ اس ضابطے پر پورا اترتے ہیں تو آپ باہر نکلیں اور خود کو قانون کے مطابق بنائیں۔ اگر آپ مجرم ہیں تو آپ کو ملک بدر کر دیا جائے گا، اگر آپ امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کا منصوبہ رکھتے ہیں تو یہ امکانات اور بڑھ گئے ہیں کہ آپ گرفتار اور ملک بدر کیے جائیں۔‘‘ متعدد ریپبلکنز نے اوباما کی طرف سے اپنے منصوبے کو کانگریس میں قانون سازی کی بجائے ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے نافذ کرنے کے ارادے پر تنقید کی ہے۔ انھوں نے غیرقانونی تارکین وطن کو ملک بدر کئے جانے سے محفوظ رکھنے کو جرائم پیشہ لوگوں کو استثنا فراہم کرنے کے مترادف قرار دیا۔اوباما نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ،
’’اس ٹوٹے پھوٹے نظام کو اسی حالت میں رہنے دینا ہی دراصل استثنا ہے۔‘‘ صدر ایک سال تک انتظار کرتے رہے کہ ریپبلکن رہنما ایوان نمائندگان میں ایمگریشن اصلاحات کو رائے شماری کیلئے پیش کریں کیونکہ سینیٹ پہلے ہی اسے منظور کر چکی تھی۔حکام کا کہنا ہے کہ صدر نے قانونی طرز عمل اپنایا ہے اور وہ اب بھی کانگریس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ ہیں۔ صدر اوباما کے اعلان پر امریکہ میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن خوش ہوگئے اور وائٹ ہاؤس کے روبرو ریلی میں خوب سراہا۔ اوباما نے کہا کہ ایمگریشن اصلاحات کے تحت امریکہ میں 5سال سے مقیم ایسے تارکین وطن جن کے بچے امریکی شہری ہیں۔ انہیں3 سال کیلئے ملازمت کا اجازت نامہ جاری ہوگا۔ اس منصوبے سے امریکی شہریوں کے والدین اور بیویوں کو بھی تحفظ حاصل ہوگا جبکہ 2لاکھ 70 ہزار کم عمرتارکین وطن کے خصوصی پروگرام کوتوسیع دی جائے گی، تاہم اس منصوبے کے استفادہ کنندگان ووٹ دینے اور انشورنس کے اہل نہیں ہوں گے۔ ایوان نمائندگان کے اسپیکر جا ن بوئینر نے اپنے شدید ردعمل میں کہا کہ تن تنہا حکم دے کر اوباما اپنی آئینی حد سے تجاوز کررہے ہیں۔