امریکہ میں چھینک پر’یرحمک اللہ‘ کہنے پر طالبہ کا نام خارج

واشنگٹن۔ 26 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )مغربی دنیا میں برداشت اور اعتدال پسندی کی تلقین کے ساتھ مذہب سے دوری کی مثالیں اکثر سامنے آتی رہتی ہیں لیکن ایک حالیہ چونکا دینے والے واقعے نے امریکیوں کی ’خدا بیزاری‘ کا بھی پردہ چاک کر دیا، جہاں ہائی اسکول کی ایک استانی نے ایک طالبہ کو محض اس بات پر کلاس روم سے نکال دیا کہ وہ اپنے کلاس فیلو کی چھینک پر اسے ’یرحمک اللہ‘ اللہ تم پر رحم کرے کہہ بیٹھی تھی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ان دنوں امریکی میڈیا میں اس خبر کا بڑا چرچا ہے اور چھینک پر ’’یرحمک اللہ‘‘کہنے کے حامی اور مخالفین نے سوشل میڈیا پر بھی تبصروں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔تفصیلات کے مطابق حال ہی میں ریاست ’’ٹینیسی‘‘کے ایک ہائی اسکول کی 17 سالہ طالبہ کینڈرا ٹورنر کو اس کی استانی نے کمرہ جماعت سے نکال دیا۔ ’’فاکس نیوز‘‘ کے مطابق کمرہ جماعت میں استانی کے لیکچر کے دوران ایک طالب علم کو چھینک آئی تو اس نے چھینک کے بعد اپنے قریب بیٹھی کلاس فیلو کینڈرا کو ’’سوری‘‘کہا۔ جواب میں کینڈرا نے اسے ’یرحمک اللہ‘کہا۔ مسلمانوں میں چھینک کے جواب میں یہ جملہ بولنا مسنون سمجھا جاتا ہے لیکن کینڈرا کا تعلق کسی مسلمان خاندان سے نہیں بلکہ عیسائی فیملی سے ہے۔