واشنگٹن9،نومبر(سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ہوئے وسط مدتی انتخابات کے تقریباًسبھی نتائج آچکے ہیں جس میں رپبلکنز کی شکست ہوچکی ہے ۔اس وسط مدتی انتخابات میں ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دومسلمان خواتین منتخب ہو کر کانگریس کا حصہ بن گئیں۔اس سے قبل مسلمان مرد منتخب ہو کر کانگریس میں پہنچ چکے ہیں تاہم الہان اور رشیدہ وہ پہلی مسلم خواتین ہیں جو امریکی ایوان نمائندگان میں امریکی عوام کی نمائندگی کریں گی۔4 اکتوبر 1981 کو پیدا ہوئیں 37 سالہ الہان کا تعلق صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو سے ہے جو امریکی ریاست ‘منیسوٹا’ سے ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد پہلی صومالین امریکی قانون ساز خاتون بن گئیں۔ الہان صومالی نژاد امریکی باشندے احمد حرثی سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں اور ان کے 3 بچے ہیں۔انہوں نے نارتھ ڈیکوٹا کی اسٹیٹ یونیورسٹی سے سیاسیات میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اس کے ساتھ عوامی امور کا بھی مطالعہ کیا۔دوسری جانب ایک فلسطینی امریکی خاتون رشیدہ حربی طالب بھی ڈیموکریٹ اکثریتی علاقے سے منتخب ہو کر امریکی ایون نمائندگان کا حصہ بنی ہیں۔رشیدہ کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی میں سوشلسٹ گروپ سے ہے اور وہ اپنے حلقہ میں خاصی مقبول ہیں۔وہ یکم جنوری 2009 کو مشی گن اسمبلی کی پہلی مسلم خاتون رکن منتخب ہوئی جبکہ امریکی تاریخ میں کسی بھی قانون ساز ادارے کی رکن بننے والی دوسری مسلمان خاتون ہیں۔2018میں انہوں نے مشی گن کی 13ویں ضلعی اسمبلی میں ڈیموکریٹ پارٹی کی نامزدگی حاصل کی اور بلا مقابلہ منتخب ہوئیں۔ رشیدہ 24 جولائی 1974 میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے فلسطینی گھرانے میں پیدا ہوئیں اور اپنے 14 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔