امریکہ میں مسلم پولیس افسر سے امتیازی سلوک اور برطرفی

ایرانی نژاد ثابت کو ساتھی عہدیدار آئی ایس دہشت گرد کہا کرتے تھے
واشنگٹن 28 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ایک ایرانی نژاد پولیس افسر نے اپنی برطرفی کے بعد حکام کے خلاف امتیازی سلوک کا ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس نے الزام عائد کیاکہ محکمہ پولیس میں اس کے ساتھی افسران اس کو آئی ایس آئی ایس کا لیڈر کہا کرتے تھے اور پوچھا کرتے تھے کہ زیادہ کام کے لئے بکری پر سواری کرنا ہے۔ ایرانی نژاد امریکی پولیس افسر امتین ثابت کو گزشتہ ماہ ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا۔ اس نے وفاقی عدالت میں ایک مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ دوران ملازمت اُس کو محض اس کے اسلامی عقیدہ کے سبب ساتھی ملازمین مسلسل ہراساں کیا کرتے تھے جس کی شکایت کرنے پر اُس کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔ امتین ثابت نے الزام عائد کیاکہ شمالی شکاگو محکمہ پولیس میں ساتھی افسران اس کو ہمیشہ دہشت گرد پکارا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آئی ایس آئی ایس (داعش) لیڈر یہاں پولیس افسر کی حیثیت سے کام کررہا ہے اور پوچھا کرتے تھے کہ آیا وہ بکری پر سواری کرتے ہوئے کام کیلئے پہونچا ہے۔ ثابت نے شمالی شکاگو سٹی کے موجودہ اور سابق پولیس سربراہان کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ ثابت 2007 ء میں محکمہ پولیس سے وابستہ ہوا تھا۔ بعدازاں اس نے روزگار کے لئے یکساں مواقع سے متعلق کمیشن میں دو مرتبہ الگ الگ درخواستیں داخل کرتے ہوئے اس محکمہ میں اپنے خلاف تعصب و امتیازی سلوک کی شکایت کی تھی۔ تاہم شمالی شکاگو کے پولیس سربراہ رجرڈ ولسن نے ثابت کے الزامات کی تردید کی اور کہاکہ اس شہر میں تنوع و تکثیری روایات پر عمل کیا جاتا ہے۔ ’’افسر ثابت کو محکمہ پولیس کے قواعد اور قوانین کی خلاف ورزیوں پر برطرف کیا گیا تھا‘‘۔ ثابت نے کہاکہ وہ اپنے ساتھی افسران کو اپنا بھائی تصور کیا کرتا تھا  لیکن وہ اس کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ثابت کے بندوق پکڑنے کا انداز ایک مسلم دہشت گرد جیسا ہے۔