واشنگٹن۔21مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ ‘ جنوب مشرقی ایشیاء سے تعلق رکھنے والے روہنگیا مسلمانوں کو جنہیں آج کل’’ بوٹ پیوپل‘‘ کی اصطلاح کے ساتھ مخاطب کیا جارہا ہے ۔ بین الاقوامی کوششوں کے تحت بطور پناہ گزین انہیں پناہ دینے کیلئے تیار ہے ۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی خاتون ترجمان میری ہاف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے مختلف ممالک کو اگر ذمہ داریاں سونپی جائے تو امریکہ بھی روہنگیا مسلمانوں کی بازآباد کاری کیلئے اہم رول ادا کرسکتا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیحد ضروری ہے کہ گذشتہ تین ہفتوں سے زائد از 3000روہنگیا مسلمان مائنمار میں ان کے خلاف جاری تشدد اور بنگلہ دیشی جو غربت کا شکار ہوکر اپنے ہی ممالک سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں اور کشتیوں کے ذریعہ مختلف جنوب مشرقی ممالک کے ساحلوں پر آچکے ہیں ۔
دوسری طرف امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تو صرف وہ تعداد ہے جو مختلف ساحل سمندر پر کشتیوں میں کھچا کھچ بھری ہوئی ہے لیکن تقریباً 1000 افراد ایسے بھی ہیں جو وسط سمند میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ حکام کی کارروائی کی وجہ سے انسانی اسمگلنگ کرنے والوں نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا ہے ۔ انسانیت سوز بات یہ ہے کہ انڈویشیا ‘ ملائیشیا اور تھائی لینڈ ایسے ممالک ہیں جو روہنگیا مسلمانوں کو اپنے یہاں پناہ دینے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اور بھوکے پیاسے لوگوں کو یوں ہی مایوس واپس لوٹا دیا ۔ ان ممالک کو اندیشہ ہے کہ اگر روہنگیا مسلمانوں کو اجازت دی گئی تو پھر انسانوں کا ایک ریلا ان ممالک میں گھس آئے گا ۔ ہاف نے حکومت کے اُس فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے جہاں روہنگیا مسلمانوں کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور انسانیت کی بنیاد پر ہر ممکنہ امداد فراہم کی جائے گی ۔
مس ہاف نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال اکٹوبر سے امریکہ نے اب تک 1000 روہنگیا مسلمانوں کی بازآبادکاری میں اہم رول ادا کیا ہے جبکہ گذشتہ سال ہی امریکہ نے 70,000پناہ گزینوں کو قبول کیا تھا حالانکہ اسے یہ بھی اندیشہ تھا کہ دیگر ممالک امریکہ سے بازپرس کریں گے ۔ البتہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انڈونیشیا اور ملائیشیا نے روہنگیا مسلمانوں کے تئیںاپنے رویہ میں نرمی پیدا کی ہے اور اب وہ بھی ان کی بازآبادکاری کے لئے اقوام متحدہ سے مدد کے طلب گار ہیں ۔ بہرحال اس صورت حال کا انتہائی محتاط انداز میں جائزہ لیا جارہا ہے ۔ واشنگٹن میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کام کوئی واحد ملک نہیں کرسکتا بلکہ دنیا کے تمام ممالک کو روہنگیا مسلمانوں کی بازآبادکاری کیلئے آگے آنا چاہیئے ۔
دوسری طرف ڈپٹی سکریٹری آف اسٹیٹ انتھونی بلنکیس آج مائنمار کا دورہ کریں گے جہاں وہ حکومت مائنمار سے درخواست کریں گے کہ روہنگیا مسلمانوں کی بازآبادکاری کیلئے اندرون ملک سازگار ماحول پیدا کریں ۔ دوسری طرف ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب عبدالرزاق نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملایشیائی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ سمندر میں پھنسے وہنگیا مسلمانوں کی کشتیوں کو بچایا جائے اور کوسٹ گارڈس کو بھی خصوصی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پورا سمندر کھنگال دیں اور یہ معلوم کریں کہ آیا کوئی کشتی روہنگیائی مسلمانوں کی پھنسی ہوئی تو نہیں ہیں ‘ تاہم آسٹریلیائی وزیراعظم ٹونی ایباٹ نے روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا ہے کہ اس سے آسٹریلیا کے داخلی مسائل میں اضافہ ہوگا کیونکہ لوگ جوق درجوق کتیوں میں سوار ہوکر آسٹریلیا پہنچ جائیں گے ۔