کابل۔23نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) افغانستان کی پارلیمنٹ نے کابل اور واشنگٹن کے درمیان باہمی صیانتی معاہدہ کو منظوری دے دی جس کے تحت بین الاقوامی فوج ملک میں جاریہ سال کے اختتام کے بعد بھی موجود رہے گی ۔ پارلیمنٹ نے ناٹو کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس میں علحدہ فوجی معاہدہ کو بھی منطور کردیا ۔ بین الاقوامی لڑاکا مشن برائے افغانستان کا آغاز 2001ء میں امریکہ زیر قیادت حملہ سے ہوا تھا جس کے نتیجہ میںطالبان کی حکومت اقتدار سے بے دخل کردی گئی تھی ۔ یہ معاہدہ جاریہ سال کے ختم پر ختم ہوجانے والا تھا ۔ پارلیمنٹ میں نئے معاہدات کی منظوری سے امریکہ اور ناٹو کو مقامی فوج کی مدد کیلئے آئندہ سال بھی جملہ 12ہزار فوجی افغانستان میں تعینات رکھنے کی اجازت مل جائے گی ۔ انتظامی عہدیداروں نے کہا کہ صدر امریکہ بارک اوباما نے نئے رہنمایانہ خطوط کو بھی منظوری دے دی ہے جس سے امریکی فوجی طالبان جنگجوؤں سے جنگ کرسکتے ہیں ۔ صرف القاعدہ کے دہشت گردو ں سے مقابلہ تک اُن کی فوجی سرگرمی محدود نہیں رہے گی ۔ اوباما کے فیصلہ کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ امریکی فوج اگر ضرورت ہو تو فضائی حملے بھی کرسکے گی ۔ سابق صدر افغانستان حامدکرزئی نے امریکہ اور ناٹو کے ساتھ معاہدوں کی تجدید پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا ۔