امریکہ ، عراق میں ٹھوس فوجی کارروائی کیلئے تیار

٭ 300 فوجی مشیروں کو روانہ کیا جائے گا :اوباما
٭ وزیراعظم نوری المالکی کی وقعت ختم
٭ جنگجوؤں کیخلاف عراقی خواتین نے بھی ہتھیار اُٹھا لئے
واشنگٹن۔ 19 جون (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ براک اوباما نے آج کہا کہ عراق میں جنگجو گروپ کی تیزی سے جاری پیشرفت کو روکنے کے لئے اگر ضروری ہوا تو امریکہ ’’ٹھوس فوجی کارروائی‘‘ کیلئے تیار ہے۔ اوباما نے کل کہا تھا کہ عراقی افواج کو تربیت دینے اور انہیں عصری اسلحہ سے لیس کرنے کیلئے امریکہ اپنے 300 فوجی مشیروں کو روانہ کرے گا۔ عراق میں جنگجوؤں کی بڑھتی کارروائیوں کا پتہ چلانے کیلئے نگران کار کیمرے اور انٹلیجنس صلاحیتوں کو پہلے ہی اضافہ کیا گیا ہے۔ امریکہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے وزیراعظم عراق پر تنقید کی ہے کہ ان کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کی وجہ ہی سے عراق میں بحران پیدا ہوا ہے۔

جنگجوؤں کی تیز پیش قدمی نے بین الاقوامی سطح پر چوکسی پیدا کردی ہے۔ اقوام متحدہ نے انتباہ دیا ہے کہ یہ بحران عراق کیلئے تباہ کن ہے۔ عراقی عوام بھی نوری المالکی حکومت سے بدظن دکھائی دے رہے ہیں۔ فضائی حملوں کیلئے عراق کی جانب سے باقاعدہ کی گئی درخواست پر صدر امریکہ براک اوباما غور کررہے ہیں۔ امریکی نائب صدر جوبائیڈن نے عراق میں نوری المالکی اور دیگر عراقی عہدیداروں کے ساتھ فون پر بات چیت کرتے ہوئے امن کیلئے اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔ واشنگٹن نے ایک طیارہ بردار جہاز خلیج فارس میں متعین کررکھا ہے اور یہاں پر فوجی بھی تعینات ہیں۔