واشنگٹن ؍بغداد ۔ 21 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم عراق نورالمالکی کے پاس اب سوائے اس کے کوئی اور متبادل نہیں ہے کہ وہ مختلف علاقوں کے جنگجوؤں کے قبضہ میں آجانے کے بعد ملی جلی حکومت تشکیل دیں یا پھر اپنے عہدہ سے دستبردار ہوجائیں کیونکہ اعلیٰ سطحی شیعہ علمائے دین اور وائیٹ ہاؤس کا یہ کہنا ہے کہ عراق کے موجودہ بحران کے لئے نورالمالکی بھی جزوی طورپر ذمہ دار ہیں۔ عراق میں اب یہ مظالبہ زور پکڑتا جارہا ہے نورالمالکی کو کرد اورسنی اقلیتوں تک رسائی حاصل کرنا چاہئے کونکہ صرف ایک روز قبل ہی صدر امریکہ براک اوباما نے انھیں چیلنج کیا تھا کہ شیعہ اور سنی مسلک سے بالاتر ہوکر انھیں تمام عراقیوں کیلئے ’’قیادت کی ‘‘نمائندگی کرنا چاہئے ۔
آیت اﷲ علی السیسطانی نے بھی ملک کے موجودہ بحران کے لئے نورالمالکی کو ہی مورد الزام ٹھہرایا ہے ۔ یاد رہے کہ عراق سے امریکی افواج کے 2011 ء میں تخلیہ کے بعد موجودہ بحران کو سب سے زیادہ سنگین تصور کیا جارہا ہے ۔ دوسری طرف امریکہ اس بات کے لئے کوشاں ہے کہ عراق میں مسلکی بنیاد پر منقسم قیادت کو متحد کیا جائے ۔ جنگجوؤں کی شورش کی وجہ سے نورالمالکی کو نہ صرف داخلی طورپر بلکہ عالمی سطح پر بھی سخت مخالفت کا سامنا ہے ۔
اوباما نے کل سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں سب سے زیادہ فکر عراق کے بچوں کی ہے ۔ وہ اُن کے بہتر مستقبل کے لئے تشویش میں مبتلا ہیں۔ انھوں نے کہاکہ انھوں نے نورالمالکی کو واضح طورپر کہہ ددیا ہے کہ اگر موصوف عراق کو متحد رکھنا چاہتے ہیں تو کسی بھی نوعیت کی امریکی طاقت پر انحصار نہ کریں۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی انتباہ دیا ہے کہ امریکہ کو عراق پر فضائی حملہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے عراق کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا ۔ دوسری طرف وائیٹ ہاؤس کے ڈپٹی پریس سکریٹری جوش ارنیسٹ نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم عراقی حکومت اور عراقی عوام کی ہرممکنہ مدد کرنے تیارہیں اور سفارتی سطح پر ایسا ہونابھی چاہئے کیونکہ ہمارا سفارتی ایجنڈہ بھی اس بات کا متقاضی ہے ۔
انھوں نے کہاکہ امریکہ اور عراق کے درمیان فوج سے فوج کے روابط ہنوز جوں کے توں ہیں اور اس میں مزید استحکام خصوصی تربیت اور فوجی ساز و سامان و آلات کی سربراہی کے ذریعہ لایاجاسکتا ہے ۔ اوباما نے جمعرات کو ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ 300 عہدیداروں پر مشتمل ایک مشاورتی مشن عراق روانہ کررہے ہیں ۔